کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ اگر کسی کو امام کے ساتھ آخری رکعت مل جائے یعنی امام کے ساتھ مثلاً ظہر کی آخری ایک رکعت مل جائے تو امام کے سلام کے بعد وہ اپنی بقیہ نماز کیسے ادا کرےگا؟ یعنی اپنی دوسری رکعت میں قعدۂ اولیٰ کےلیے بیٹھے گا یا سیدھا کھڑے ہو کر اپنی تیسری رکعت میں بیٹھےگا؟ فقہ حنفی کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔ جزاک اللہ
مسبوق کی بقیہ نماز کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ امام کے سلام کے بعدہ وہ پہلی رکعت میں ثناء، تعوّذ، تسمیہ، فاتحہ و سورت پڑھ کر رکوع وسجدے کرنے کے بعد قعدہ اولیٰ بھی کرے جو شرعاً واجب ہے اور پھر دوسری رکعت میں بھی سورۃ فاتحہ کے بعد دوسری سورت ملائے اور رکعت پوری کرے اور پھر تیسری رکعت میں فقط سورۃ فاتحہ پڑھ کر رکوع سجدہ کر ے اور تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے۔
ففی الفتاوى الهندية: (و منها) أنه يقضي أول صلاته في حق القراءة و آخرها في حق التشهد حتى لو أدرك ركعة من المغرب قضى ركعتين و فصل بقعدة فيكون بثلاث قعدات و قرأ في كل فاتحة و سورة اھ(1/ 91)۔
و فیها أیضاً: و لو أدرك ركعة من الرباعية فعليه أن يقضي ركعة يقرأ فيها الفاتحة و السورة و يتشهد وي قضي ركعة أخرى كذلك و لا يتشهد و في الثالثة بالخيار و القراءة أفضل. هكذا في الخلاصة اھ (1/ 91)۔