امامت و جماعت

قرأت خلف الامام اوررفع الیدین کا حکم

فتوی نمبر :
61427
| تاریخ :
2007-03-30
عبادات / نماز / امامت و جماعت

قرأت خلف الامام اوررفع الیدین کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درج مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ اہلِ حدیث حضرات یہ کہتے ہیں کہ قرأت خلف الامام فرض ہے ، اس کے متعلق قرآن و حدیث سے دلیل بھی پیش کرتے ہیں۔
۲۔ اہلِ حدیث حضرات کہتے ہیں کہ نماز میں رفع الیدین افضل ہے، اس سے متعلق بھی حدیث سے دلیل دیتے ہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱،۲۔ غیر مقلدین اس طرح کی کوئی ایک حدیث بھی پیش نہیں کر سکتے جس میں یہ تصریح ہو کہ ’’قرأت خلف الامام فرض ہے‘‘، جبکہ اس کے برعکس قرآن وسنت اور آثارِ صحابہ وتابعین سے یہ ثابت ہے کہ جب امام قرأت شروع کرے تو تم خاموش ہو جاؤ ، کیونکہ امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے، اسی طرح نمازمیں بدستور قنوت اور سکون کا حکم آتا رہا حتیٰ کہ آخر میں صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرنا رہ گیا تھا، اس لیے یہی ’’اوفق بالقرآن و السنۃ‘‘ ہے، اسی کو اختیار کرنا چاہیے اور بلاوجہ غیر مقلدین سے متأثر بھی نہیں ہونا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُون﴾ (الأعراف: 204)۔
و فی الطحاوی: عن جابر، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال: «من كان له إمام فإن قراءة الإمام له قراءة» اھ(۱/۱۵۹)۔
و فی صحيح مسلم: و في حديث جرير، عن سليمان، عن قتادة من الزيادة» و إذا قرأ فأنصتوا" اھ(1/ 304)۔
و فی سنن أبي داود: قال عبد الله بن مسعود: "ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة" اھ (1/ 199)۔
و فی صحيح مسلم: عن جابر بن سمرة، قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ اسكنوا في الصلاة» اھ(1/ 322)۔
و فی سنن أبي داود: عن جابر بن سمرة، قال: دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم، و الناس رافعوا أيديهم - قال زهير: أراه قال - في الصلاة، فقال: «ما لي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس؟ أسكنوا في الصلاة» اھ(1/ 262)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 61427کی تصدیق کریں
0     941
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات