میرے شوہر نے مجھے معمول کے مطابق میری والدہ کے گھر چھوڑا مگر لینے کے وقت لینے نہیں آئے ۔ میں نے ان کی امی سے فون کال پر شکایت کی تو پھر میرے شوہر کا ایس ایم ایس آیا کہ پہلے اپنے دماغ کا علاج کرواؤ، جس پر میں نے ان سے بدلہ لینے کے لئے محض جھوٹے دل سے ایس ایم ایس میں تین چار بار کہا چھوڑ دیں مجھے چھوڑ دیں مجھے۔ کیونکہ اس طرح کہنے سے وہ مجھے منا لیتے ہیں مگر اس بار انہوں نے جواب میں لکھا کہ چھوڑ دیا میں نے تمھیں ہمیشہ کے لیے، پھر دو دن بعد میں نے ان سے کہا مجھے معاف کر دیں انھوں نے کہا میں معاف کر دیتا ہوں اور لینے آگئے۔ میں نے ان سے اوپر مذکورہ ایس ایم ایس کے بارے میں پوچھا کہ اس طرح طلاق ہو جاتی ہے انہوں نے کہا نہیں ہوتی ۔ انہوں نے معہد الخلیل سے مسائل پڑھے ہوئے ہیں۔ مگر مجھے اطمینان نہیں ہوتا اس لئے براہ کرم رہنمائی فرمائیں ۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعتاً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ نے اپنے شوہر سے مذکور الفاظ ’’ چھوڑ دیں مجھے چھوڑ دیں‘‘ سائلہ تین سے چار بار کہے ہوں جسکے جواب میں شوہر نے مذکورہ الفاظ ’’ چھوڑ دیا میں نے تمہیں ہمیشہ کے لیے ‘‘ تین طلاق کی نیت کے بغیر کہے ہوں ، تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، اس کے بعد بغیر تجدید نکاح کے دونوں کا یک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز نہیں تھا، اور اب تک میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ جتنا عرصہ گزارا ہے ، اس پر تو بہ واستغفار کریں ، اور آئندہ کے لیے اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے سے مکمل اجتناب کریں، تاہم اب اگر دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں، تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرنے کے بعد رہ سکتے ہیں ، تاہم اس صورت میں شوہر کو آئندہ فقط دو (۲) طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لیے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
ففي الدر المختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا اھ (3/ 246)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت اھ (3/ 299)
و في الفتاوى الهندية: امرأة قالت لزوجها طلقني وطلقني وطلقني فقال الزوج قد طلقتك طلقت ثلاثا نوى الزوج الثلاث أو لم ينو ولو قالت بغير حرف الواو طلقني طلقني طلقني فقال الزوج قد طلقتك فإن نوى الثلاث طلقت ثلاثا وإن نوى واحدة أو لم ينو شيئا تقع واحدة كذا في المحيط اھ (1/ 356)
وفيه ايضا: الأصل أنه متى وصف الطلاق إن كان وصفا لا يوصف به الطلاق يلغو الوصف ويقع رجعيا (إلى قوله) ومتى وصفه بصفة يوصف بها الطلاق فلا يخلو إما أن لا تنبئ عن زيادة كقوله أحسن الطلاق أو أفضله أو أسنه أو أجمله أو أعدله أو خيره أو تنبئ عن زيادة كقوله أشد الطلاق ونحوه فالأول رجعي والثاني بائن على أصولهم اھ (1/ 372)
وفيه ايضا : ولو قال أنت طالق ملء البيت فهي واحدة بائنة إلا أن ينوي ثلاثا كذا في الهداية اھ (1/ 371) والله اعلم بالصواب