حضرات مفتیان کرام جامعہ بنوریہ عالمیہ درجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں مدلل جواب عنایت فرمائیں! اگر مسجد کی انتظامیہ نے مسجد میں عورتوں کےلیے نماز تراویح کی الگ جگہ بنائی ہو، جہاں عورتیں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتی ہوں۔ (ایسے حالات سعودی عرب حرمین شریفین) اور دیگر عربی ممالک میں پائے جاتے ہیں ) تو اس صورت میں نماز تراویح میں مرد اور عورت کتنے فاصلے تک کھڑے ہو سکتے ہیں کہ ان کی اقتدا صحیح ہو؟
واضح ہو کہ جماعت کےساتھ نماز ادا کرتے وقت اقتداءدرست ہونے کے لیے امام اور مقتدی حضرات کے مکان کا متحد ہونا شرط ہے ، اور مسجد، صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد اقتداء کے باب میں مکان واحد کے حکم میں ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں اگر عورتوں کےلیے بنائی گئی مذکور جگہ، مسجد کے اندر یا صحنِ مسجد اور فناءِ مسجد میں ہو، تو ایسی صورت میں امام کےساتھ اس متعینہ جگہ میں باجماعت تراویح کی نماز ادا کرنے والی خواتین کی نماز درست ادا ہوگی، البتہ عورتوں کے نمازِ تراویح کےلئے مساجد میں آنے میں چونکہ فتنے و فساد کااندیشہ ہے اور ان کےلیے مسجد کےبجائے گھروں میں رہ کر نمازوں کی ادائیگی کرنا زیادہ باعث اجر وثواب ہے، لہذا خواتین کو گھروں میں ہی نماز تراویح پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: ويجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإن كان طريق عام ولكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد. كذا في التتارخانية ناقلا عن الحجة. (1/ 88)
وفی الدر المختار : والصغرى ربط صلاة المؤتم بالإمام بشروط عشرة: نية المؤتم الاقتداء، واتحاد مكانهما وصلاتهما،
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله واتحاد مكانهما) فلو اقتدى راجل براكب أو بالعكس أو راكب براكب دابة أخرى لم يصح لاختلاف المكان؛ فلو كانا على دابة واحدة صح لاتحاده كما في الإمداد، وسيأتي.وأما إذا كان بينها حائط فسيأتي أن المعتمد اعتبار الاشتباه لا اتحاد المكان،(1/ 549)