میں جرمنی میں رہتا ہوں، یہاں مسجد پاکستان کی طرح گھر سے نزدیک نہیں ہے، میرے گھر سے نزدیک ترک بھائیوں کی ایک مسجد ہے، اس میں پانچ وقت کی نماز نہیں ہوتی ، اور جو نمازیں ہوتی ہیں، ان کے بھی اوقات مقرر نہیں ہے، اپنے طور پر کوشش بھی کی کہ یہاں پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے شروع ہو جائے، مگر ایسا نہ ہوسکا۔
اس صورت میں کیا گھر میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے؟
صورتِ مسئولہ میں بھی مسجد جا کر نماز کا اہتمام چاہیئے، اگر دو ، چار لوگ اور مل جائیں تو جماعت کرا لی جائے ورنہ مسجد کے ثواب سے محرومی نہیں ہوگی ، اور جماعت کے جذبہ سے جانے پر اُمید ہے اس کا بھی ثواب ہوگا۔
ففی الفتاوى الهندية: (الفصل الأول في الجماعة) الجماعة سنة مؤكدة. كذا في المتون والخلاصة والمحيط ومحيط السرخسي وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة اھ (1/ 82)
وفیها أیضاً: وتسقط الجماعة بالأعذار حتى لا تجب على المريض والمقعد والزمن ومقطوع اليد والرجل من خلاف ومقطوع الرجل والمفلوج الذي لا يستطيع المشي والشيخ الكبير العاجز والأعمى عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى – اھ (1/ 83)واللہ اعلم