سوال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے میں ڈیرہ اسمعیل خان سےبس میں کراچی کی طرف سفر کررہا تھا تو میں نے دورانِ سفر موبائل پر مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کا ایک ویڈیو کلپ دیکھا جس میں وہ فرمارہے تھے کہ میرے پاس ایک لڑکا آیا اور اُس نے مجھ سے طلاق کا مسئلہ معلوم کیا اور اُس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی تو میں نے اُس سے کہا کہ بھائی آپ کی بیوی کو طلاق ہوچکی ہے, جس کے بعد وہ لڑکا پنجابی میں اپنی ماں سے کہنے لگا کہ " امی میری رن چُڈ گئی" جس کا مطلب ہے کہ میری بیوی مجھ حرام ہوگئی ہے یا میری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے یا میں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی ہے , اس پنجابی جملے پر مجھے دل ہی دل میں ہنسی آئی , اور سوچتا رہا کہ یہ کیسا جملہ ہے , چنانچہ میں اسی سوچ میں تھا کہ میں نے بھی اپنے ساتھ خود کلامی کرتے ہوئے زبان سے یہ جملہ ادا کردیا اور میں نے صرف اتنا کہا کہ " رن چُڈ گئی" اس کے بعد مجھے فوراً یہ بات یاد آگئی کہ یار یہ جملہ تو طلاق کیلئے استعمال ہوتا ہے جس کے بعد مجھے وہم اور وسوسوں نے خوب گھیر لیا , اب سوال یہ ہے کہ کیا اس جملے کے ادا ہونے سے طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ؟ حالانکہ نہ میری طلاق کی نیت تھی اور نہ ہی اپنی بیوی کی طرف نسبت تھی , بس صرف مفتی عبدالواحد قریشی صاحب کی بات کو سوچتے سوچتے میں نےاپنے ساتھ دہرادیا , برائے مہربانی میری رہنمائی فرمائیں۔ و السلام
سائل کے مذکور جملہ "رن چڈ گئی" کہنے سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ سائل کو مذکور جملہ دہرانے سے احتراز کرنا چاہیئے -