خلوت صحیحہ سے کیا مراد ہے؟
نکاح کے بعد جب کہ ابھی باقاعدہ رخصتی نہیں ہوئی, میاں بیوی کا ایک دوسرے کو ویڈیو کال کے ذریعے دیکھنا اور باتیں کرنا ، کیا یہ بھی خلوت صحیحہ میں آتا ہے؟
رخصتی سے پہلے ہی ویڈیو پر بات کرتے ہوئے طلاق دے دی جائے ، تو کیا نکاح اسی وقت ختم ہوگیا اور اگر تین دفعہ طلاق کہی گئی ، تو یہ تین تصور ہونگی یا ایک ہی تصور ہوگی ؟ رجوع کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ برائے کرم تفصیلی رہنمائی فرمائیں !شکریہ!
خلوت صحیحہ سے مراد یہ ہےکہ شادی کے بعد میاں بیوی دونوں کسی ایسی تنہائی میں ملے ہوں ، جہاں ہمبستری کرنے سے کوئی چیز مانع نہ ہو،لہذا اگر سائلہ اور اس کے شوہر ابھی تک اس طرح نہ ملے ہوں ، فقط ویڈیو کال پر بات کی ہوں ، تو یہ خلوت صحیحہ شمار نہ ہوگی ،چنانچہ سائلہ کے شوہر نے اگر الگ الگ جملوں سے سائلہ کو طلاق دی ہو ، تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے،اب اگر سائلہ اور اس کا شوہر دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہیں ، تو باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح کرکے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن آئندہ کے لئے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا،اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔واللہ اعلم