مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر میں جماعت میں اس وقت داخل ہوں جب امام صاحب الحمد شریف کر چکا ہوں تو کیا میں سبحانک اللھم پڑھوں گا یا نہیں؟ بس خاموش اقتداء کروں؟
ایسے وقت میں اقتداء کرنے والے مُقتدی کو چاہیے کہ وہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد خاموش کھڑا رہے اور امام کی قراءت توجّہ ودِھیان سے سنے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾ (الأعراف: 204)
وفی صحيح مسلم: وفي حديث جرير، عن سليمان، عن قتادة من الزيادة» وإذا قرأ فأنصتوا " اھ (1/ 304)
وفی حاشیة الطحطاوی: ثم اعلم أن الثناء یأتی به کل مصلٍّ فالمقتدی یأتی ما لم یشرع الإمام فی القراءة اھ (ص: ۱۴۱)