میں نے ایک A,C خرید اتھاساٹھ ہزار کا ، لگانے والے نے لگا کے تین مہینے کی وارنٹی دی، اس کے مطابق چیز صحیح ہے،استعمال کرنے والے کے مطابق چیز میں مسئلہ ہے، A,C واپس لیتے ہوئے وہ بندہ پیسے کاٹ رہا ہے کہ سروس کی مد میں لانا لے جانے کے پیسے ،جبکہ پہلے اس نے ایسا کچھ نہیں بولا تھا۔
خرید و فروخت کرتے وقت کسی چیز کی وارنٹی دینے کا مطلب عموماً مقرر وقت میں خرابی آنے کی صورت میں ان اشیاء کی مرمت کرنا ہوتا ہے ، اسے واپس کرنا وارنٹی میں شامل نہیں ہوتا، تاہم اگر سائل اور A,C فروخت کرنے والا اس معاملہ کو ختم کر کے A,C واپس لینے پر آمادہ ہوں تو یہ بھی شرعاً جائز اور درست ہے ، اور اس معاملہ کو ختم کرنے کی وجہ سے پوری قیمت واپس کرنا لازم ہوگی، تاہم A,C لانے لیجانے اور لگوانے کی جو اجرت بنتی ہے، عرف کے اعتبار سے وہ اس کا حقدار ہے، اور عرف کے مطابق رائج اجرت کی ادائیگی سائل کے ذمہ بھی لازم ہو گی، بشر طیکہ انہوں نے بغیر اجرت کے یہ سروس فراہم کرنے کا وعدہ نہ کیا ہو۔
كما في الدر المختار: (و) الثاني (تصح بمثل الثمن الأول وبالسكوت عنه) (5/ 125)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله: وتصح بمثل الثمن الأول) حتى لو كان الثمن عشرة دنانير، فدفع إليه دراهم ثم تقايلا وقد رخصت الدنانير رجع بالدنانير لا بما دفع، وكذا لو رد بعيب وكذا في الأجرة لو فسخت ولو عقد بدراهم فكسدت ثم تقايلا رد الكاسد كذا في الفتح نهر.(قوله: وبالسكوت عنه) المراد أن الواجب هو الثمن الأول سواء سماه أو لا اھ (5/ 125)۔
و في البحر الرائق : قوله ( وتصح بمثل الثمن الأول وشرط الأكثر أو الأقل بلا تعيب وجنس آخر لغو ولزمه الثمن الأول ) وهذا عندأبي حنيفة لأن الفسخ يرد على عيب ( عين ) ما يرد عليه العقد فاشتراط خلافه باطل ولا تبطل الإقالة كما قدمنا قيد بقوله بلا تعيب إذ لو تعيب بعده جاز اشتراط الأقل ويجعل الحظ ( الحط ) بإزاء ما فات بالعيب اھ(6/ 113)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1