ایک لڑکے کی بیوی شوہر کے ظلم و ستم کی وجہ سے ناراض ہو کے، چار سال سے اپنے ماں باپ کے گھر رہ رہی ہے۔ اب اس کے شوہر نے طلاق نامہ بھیج دیا ہے , اس کا عنوان ہے "طلاق ثلاثہ" نیز اس کے متن میں بھی تین دفعہ لکھا ہے کہ "میں اسے طلاق دیتا ہوں - "
معلوم کرنا ہے کہ کیا تین طلاق ہو گئیں یا یہ ایک ہوئی ؟ اس لڑکی کے لئے کیا حکمِ شرعی ہے ؟
سوال میں مذکور خاتون کے شوہر نے اس سے پہلےکبھی زبانی یا تحریری طلاق نہ دی ہو ،اور مذکور طلاق نامہ میں تین بار طلاق کے الفاظ درج ہوں اور مذکور طلاق نامہ شوہر نے بنوایا ہو یا اس پر دستخط کردیے ہوں تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے-