میرا بھائی نے غصے کی اور نشے کی حالت میں اپنی بیوی کو جو موجود بھی نہیں تھی طلاق کا لفظ استعمال کیا تو اس طرح کیا طلاق ہو جاتی ہے اور وہ یہ لفظ مختلف مواقع پرتین مرتبہ کہہ چکا ہے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوگئی جبکہ بیوی کو معلوم بھی نہیں۔
واضح ہوکہ طلاق واقع ہونےکیلئے بیوی کا الفاظ طلاق سننا یا اس کا موجود ہونا لازم نہیں ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے بھائی نے بیوی کی عدم موجودگی میں بھی بیوی کے متعلق طلاق کے الفاظ تین مرتبہ کہدئیے ہوں تو اس سے سائلہ کی بھابھی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتااور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ عورت عدت مکمل کرنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔