محترم جناب مفتی صاحب ،السلام علیکم
جناب انجمن آرا میری دوسری بیگم ہیں، ہم نے 10 سال پہلے نکاح کیا تھا اور ایک دوسرے سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے اور دونوں بیگمات ساتھ رہتی تھیں , لیکن پچھلے 2 سال سے میرے اور انجمن آرا کے درمیان اختلافات شروع ہوئے، ایک دن میری بیگم میری غیر موجودگی میں گھر چھوڑ کر چلی گئی اور مجھ پر بلا جواز جھوٹاخلع کا کورٹ کیس داخل کردیا , جسے میں نے سمجھا بجھا کر واپس کروایا اور اسے نیا کرائے کا گھر لے کر دیا اور بیگم کی اور اسکی والدہ کی کفالت کی ذمہ داری لے لی ،بیگم کی والدہ کے علاج دوائیوں میں 10 سال سےخود ہی کر رہا ہوں ،نئے گھر کے اخراجات تقریباً ایک لاکھ روپے بنتے تھے ،معہ 30 سے 40 ہزار الگ جیب خرچی کے، اس درمیان میں انتہائی فرمانبردار رہا، اپنی انا ,غصہ بالکل ختم کردیا ،8 ماہ آرام سے گزر گئے , بیگم سےکچھ اضافی مانگ پر میرا جھگڑا ہوگیا، اور وہ پھر کورٹ چلی گئی میں نے اسے بہت سمجھایا , منت کی , ہاتھ جوڑے , بہت رویا لیکن وہ نہ مانی ،میں کسی صورت اپنی بیگم کے طلاق یا چھوڑنے کے حق میں نہیں، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ بے وقوفی کر رہی ہے، میری منت کے بعد اس نے ایک اور بے وقوفانہ شرط رکھ دی کہ اگر مجھے طلاق دے دو گے تو میں کسی کو نہیں بتاؤنگی اور تمھارے ساتھ ہی رہونگی اور ہم ساتھ رہتے رہیں گے اور ساتھ کام کریں گے، آخر مجبوراً مجھے تاریخ پر کورٹ جانا پڑا , جہاں پر انکے وکیل نے میری رضامندی کے بغیر مجھ سے طلاق نامے پر دستخط لے لیے، یاد رہے میں نے ایک بھی طلاق زبانی بالکل نہیں دی, مجبوراً بنے بنائے طلاق نامہ پر دستخط کردیے،میری بیگم اپنے وعدہ کے مطابق میرے ساتھ ہی ہے، اس نے عدت بھی نہیں کی, ہم روز کے بنیاد پر ساتھ آتے جاتے ہیں ,کسی کو بھی نہیں بتایا ،جناب عالی مجھے یہ بتائیے کہ میری مرضی کے بغیر , کورٹ کیس اور وکیل کی دھمکی دے کر اور جذباتی طور پر بلیک میل کر کے جو دستخط لیے ہیں اسکی شرعی کیا حیثیت ہے ؟ کیا یہ طلاق واقع ہوگئی ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق سائل نے اگر چہ وکیل کے پریشر اور دھمکی کی وجہ سے طلاق نامہ پر دستخط کیے ہوں ،لیکن اگر دستخط نہ کرنے کی وجہ سے سائل کی جان جانے یا اس کےکسی عضوء کے تلف ہونے کا اندیشہ نہ ہو ،تو ایسی صورت میں اگرچہ سائل نے بادلِ نخواستہ طلاق نامے پر دستخط کیے ہوں، تب بھی اس کی وجہ سے سائل کی مذکور بیوی پر طلاق نامہ میں درج طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،چنانچہ اگر اس طلاق نامہ میں تین طلاقیں لکھی ہوں ،تو سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیرحلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہےکہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور ابتک تین طلاقوں کے بعد جتنا عرصہ ساتھ رہے ہیں اس پر بصدقِ دل توبہ و استعفار کریں ،جبکہ سائل کی مطلقہ بیوی ایامِ عدت گزارنےکے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کمافی الدر المختار : و یقع طلاق کل زوج عاقل بالغ و لو عبداً او مکرھاً فان طلاقہ ای المکرہ صحیح۔(230/4)۔
و فی الفتاوی التاتارخانیۃ :و طلاق المکرہ و السکران و خلعھا و اعتاقھا واقع(390/4)۔
و فی الھندیہ : و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها ، كذا في الهداية۔(473 /1)۔