نوٹ:میرا نام تمیم ہے،مجھےیہ معلوم کرنا تھا کہ میرے والدین نے میرے نام سے خود طلاق نامہ بنوایا مجھےبتائے بنا، اور مجھ سے زبردستی طلاق نامہ پر دستخط لیا، میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا تھا، میرے والدین طلاق کا اسٹام پیپر لپیٹ کر کے زبردستی دستخط لیا اور بعد میں بتایا کہ یہ طلاق نامہ تھا،میرے والدین نے مجھے گھر سے نکالنے کے دھمکی دی تھی،میں اپنا گھر چھوڑ کر بہن کے گھر رہ رہا تھا ،وہاں آکر زبردستی دستخط لیئے،میں نے کبھی بھی منہ سے طلاق کا اقرار نہیں کیا،نہ میرا ارادہ تھا، نہ میری نیت تھی اور میں نے کبھی سوچا تھا،اب آپ دین کی روشنی میں بتا دیں کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟
نوٹ:سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل نے طلاق نامہ کو دیکھا تھا اور اسکو معلوم تھا کہ یہ طلاق نامہ ہے اور اسکے باوجود سائل نے اس پر دستخط کیئے ہیں، سائل کا طلاق نامہ سوال کے ساتھ منسلک ہے۔
واضح ہو کہ سوال نامہ میں مذکور جبر کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا مسئولہ صورت میں سائل کے منسلکہ طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے مسمی تمیم کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،اورعورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی:{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} (البقرة: 230)
وفی صحیح البخاری:عن عائشة،" ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول".(5261)
و فی العناية:ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ (الی قولہ)وطلاق المكره واقع اھ(3/488)
وفی الفتاوی الھندية:الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة(الی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ(378/1)
و فیہ ایضاً: فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد.(وأما) (شرطه) بأن يكون الإكراه من السلطان عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، وعندهما إذا جاء من غير السلطان ما يجيء من السلطان فهو إكراه صحيح شرعا، كذا في النهاية وعليه الفتوى،اھ(5/35)
و فی النهاية:وأما أنواعه: فالإكراه في أصله على نوعين أما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجأ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء فهو معتبر شرعا سواء حصل الإكراه على القول أو على الفعل.والإكراه الذي هو غير ملجئ هو الإكراه بالحبس والتقييد فإن حصل ذلك الإكراه [على فعل من الأفعال فهو غير معتبر شرعا ويجعل كأن المكره فعل ذلك الفعل بغير إكراه اھ(20/263)