میرے شو ھر نے مجھے فون کال پر کسی بات پر تکرار کرتے ہوے مجھے دو دفعہ طلاق دی، اس وقت کے بعد سےہم الگ رہ رہے ہیں ،دو سال ہو گئے ہمیں الگ رہتے ہوئے،اسلام کی روشنی میں،میں جاننا چاہتی ہوں کہ اب کیا یہ طلاق ہو گئی؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعۃ سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو فقط دو طلاقیں دی ہوں تو اس سے سائلہ پر دو طلاقیں واقع ہوچکی تھیں،جس کے بعد عدت کے دوران سائلہ کے شوہر کو رجوع کا اختیار حاصل تھا البتہ اگر عدت کے دوران سائلہ کے شوہر نے رجوع نہ کیاہو،اور سائلہ کی عدت مکمل ہوچکی ہو تو ایسی صورت میں دونوں میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہوچکاہے،چنانچہ اب سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی البتہ اگر سائلہ اور اس کا شوہر اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدید نکاح کرکے حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتےہیں،تاہم تجدید نکاح کے بعد آئیندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار حاصل ہوگا۔