ترجمہ :میں پچھلے بیس سال سے شادی شدہ ہوں لیکن اب میرا مزید اپنے شوہر کی طرف میلان نہیں ہے میں اس کے ازدواجی حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں کرتی ،لیکن مباشرت کرنے سے میں پریشان ہوجاتی ہوں، میں ساری فیملی اور بچوں کی معاشی ذمہ داریاں پچھلے تین سال سے برداشت کررہی ہوں جبکہ وہ کام نہیں کرتے، توکیا میں گناہ گار ہونگی اگر میں ارادہ کروں اس بات کا کہ میں اس اسے طلاق حاصل کرلوں ؟
جاننا چاہیئے کہ بیوی بچوں کا نان ونفقہ شوہر پر اس کے کمائی اور استطاعت کے بقدار لازم اورضروری ہوتاہے ، اسی طرح بیوی کے ازدواجی حقوق میں بھی اس کی صحت ومزاج وغیرہ کا لحاظ رکھنا چاہیئے ،لہذا سائلہ اگر کمزوری وغیر ہ کسی عذر کی وجہ سے شوہر کے ازدواجی حقوق پورے نہ کرسکتی ہو تو امید ہے کہ سائلہ گناہ گار نہ ہوگی، لیکن فقط اس وجہ سے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں بلکہ شوہر کو مناسب انداز سے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیئے اور شوہر کو بھی چاہیئے کہ ازدواجی حقوق کی ادائیگی میں بیوی کی صحت ومزاج کا خیال رکھے ،جبکہ بیوی بچوں کا نان ونفقہ چونکہ شرعاً شوہر کے ذمہ لازم ہوتاہے ،لہذا سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ اپنی ذمہ داری کوپور اکرتے ہوئے بیوی بچوں کے نان ونفقہ کا اہتمام کرلے ،اور سائلہ کوبھی چاہیئے کہ شوہر سے طلاق یاخلع لینے میں جلدبازی سے کام لینے کے بجائے ازخود یاخاندان کے بڑوں کے ذریعے شوہر کو سمجھاکر اس ذمہ داری کو پوراکرنے پر آمادہ کرلے ،لیکن سمجھانے کے باوجود بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کررہا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ اپنے اولیاء کی مشاورت سے شوہر سے خلع یاطلاق کے ذریعے علیحدگی حاصل کرسکتی ہے اور اس کی وجہ سے امید ہے کہ وہ گناہ گار نہ ہو۔
کمافی مشکاۃالمصابیح: وعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» رواه أبوداود(2/978)۔
وفیہ ایضاً: عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة» رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي(2/978)۔
و فی ردالمحتار: [مطلب في فسخ النكاح بالعجز عن النفقة وبالغيبة](قوله ولا يفرق بينهما بعجزه عنها) أي غائبا كان أو حاضرا (قوله بأنواعها) وهي مأكول وملبوس ومسكن ح (قوله حقها) أي من النفقة وهو منصوب مفعول المصدر وهو إيفاء (قوله ولو موسرا) المناسب ولو معسرا؛ لأنه إشارة إلى خلاف الشافعي - رحمه الله - والأصح عنده عدم الفسخ بمنع الموسر حقها كمذهبنا (قوله بإعسار الزوج) مقابل قوله ولا يفرق بينهما بعجزه ط(3/590)۔