السلام علیکم
میں آپکی ممنون ہونگی اگر آپ پاکستان میں موجود میری جائیداد کے متعلق فتویٰ مہیا کر دیں ، میرے شوہر نے مجھے ایک گھر تحفے میں دیا ، ہماری اولاد نہیں ہے، میں ایک وصیت بنانا چاہتی ہوں کہ میری وفات کے بعد مذکور گھر کو بیچ کر مندرجہ ذیل طریقے کے مطابق تقسیم کیا جائے۔
1 -ایک تہائی میری والدہ کو اگروہ حیات ہوں، اگر نہیں تو اسکا نصف بہنوئی (غضنفر رشید) کو ملے اور آدھا اللہ کیلئے۔
2- ایک تہائی میرے بہنوئی (غضنفر رشید) کو ، اگر وہ زندہ نہ ہو تو یہ میرے بھانجے (محمد مصطفیٰ) کو جائے گا۔
3- ایک تہائی اللہ کیلئے ، میرا ایک پلاٹ بھی ہے، جو میرے شوہر نے میرے نام پر خریدا , اپنے دو بھتیجوں کی شادی کے وقت اُنکے درمیان برابر تقسیم کرنےکیلئے، میں ایک وصیت نامہ بھی بنانا چاہتی ہوں کہ مذکور گھر کو میرے شوہر کی خواہش کے مطابق تقسیم کر دیا جائے، برائے مہربانی مجھے مطلع کیا جائے کہ اگر میں شرعی طور پر مذکور ہ بالا وصیت نامہ پر عمل کر سکوں، اگر مذکورہ بالا تقسیم شرعی اعتبار سے درست نہ ہو تو برائے مہربانی شرعی اعتبار سے فتویٰ دیجئے - جزاک اللہ خیراً
سائلہ کے مرحوم شوہر نے جو گھر سائلہ کو گفٹ کیا تھا، اگر یہ گفٹ صرف زبانی نہیں کیا تھا ، بلکہ باقاعدہ مالکانہ حقوق کیساتھ قبضہ بھی دے دیا تھا تو سائلہ مذکور مکان کی مالکہ بن چکی ہے، لہذا سائلہ ورثاء کے علاوہ باقی لوگوں کیلئے یا اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کیلئے ایک تہائی کی حد تک وصیت کر سکتی ہے۔
جبکہ جو گھر سائلہ کے مرحوم شوہر نے اپنے دونوں بھتیجوں کیلئے سائلہ کے نام پر خریدا تھا ، اگر اپنی زندگی میں مذکور مکان ان دونوں کے درمیان تقسیم نہیں کیا تھا، بلکہ صرف زبانی اقرار کیا تھا تو مذکور دونوں بھتیجے اس مکان کے مالک نہیں بنے، بلکہ مذکور مکان بدستور مرحوم کی ملکیت میں رہ کر اب انتقال کی صورت میں تمام ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگا۔
جبکہ مرحوم کے تمام ورثاء کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ کر دیں، ان شاء اللہ غور و فکر کے بعد شرعی تقسیم کے طریقۂ کار سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
فی مشكاة المصابيح : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ : «لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ» مُنْقَطِعٌ هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ . وَ فِي رِوَايَةِ الدَّارَقُطْنِيِّ : قَالَ : «لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاء الْوَرَثَة۔الحدیث (2/ 925)-
و فی رد المحتار : لو قال : جعلته باسمك ، لا يكون هبة۔اھ (5/ 689)-
و فی الدر المختار : (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها۔اھ (5/ 690)
و فیہ ایضاً : (و تجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (و إن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) و لا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته۔اھ (6/ 650)-
و فی التاتارخانیة : لایجوز لرجل ان یھب لامراتہ و ان تھب لزوجھا او لاجنبی دارا ھما فیھا ساکنان و کذالک الھبة لان ید الواھب ثابتة علیہ۔اھ (14/431)-