میرے شوہر نے دوسرا نکاح میرے علم میں لائے بغیر کیا جتنی جلد بازی میں نکاح کیا اتنی جلد بازی میں طلاقیں بھی دے دی میرے سامنے کئی بار لکھ کر اور زبانی اپنی دوسری بیوی کو طلاقیں دی ۔ کئی مفتیان سے مشاورت کی انکا کہنا ہے انکا تعلق حرام ہو گیا ہے کسی کا کہنا ہے کہ دو مردوں کا گواہ ہونا اور دوسری بیوی کے سامنے کہنا ضروری ہے ۔ مہربانی کرکے اس پر شرعا فتوی جاری کریں کیا طلاق کیلئے بھی گواہ ضروری ہیں اور پہلی بیوی کے سامنے دوسری بیوی کو طلاق دینے پر طلاق واقع ہوئی ہے کہ نہیں؟۔پہلی بیوی کے پاس ثبوت موجود ہیں
واضح ہوکہ طلاق دیتے وقت کسی گواہ کا موجود ہونا یا بیوی کا الفاظ طلاق سننا کوئی لازم نہیں،بلکہ گواہوں کے بغیر اور بیوی کی عدم موجودگی میں بھی طلاق کے الفاظ بولنےسے طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے اگر واقعۃ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہوں تو ان دونوں کا ایک ساتھ رہنا شرعا ناجائز و حرام ہے،ان پر لازم ہے کہ فالفور علیحدگی اختیار کریں۔