اگر شوہر غصے میں کہہ دے کہ "تم میری طرف سے فارغ ہو" یوی نے کوئی مطالبہ بھی نہ کیا ہو، نہ ایسی کوئی طلاق کی بحث تھی، بس شوہر نے ایک دفعہ صرف غصے میں پہلے طلاق کی دھمکی دی، میں نے صرف اپنے شوہر کو کہا مجھے آپ ٹائم نہیں دیتے تو میرا ذہن کسی اور مرد کی طرف نہ چلا جائے، یہ صرف مذاق تھا جس پر اُنکو غصہ آگیا، اور کہا تم مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی، میں تمہیں بھی اور اسکو بھی مار دوں گا، وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں، اس بات پر اُنکو بہت غصہ آگیا، اگر کوئی مرد آیا تو طلاق دے دوں گا، میں اُنکو سمجھانے لگی ایسا کچھ نہیں ہے، آپ ٹائم نہیں دیتے تب کہا، پھر اُنکے منہ سے نکل گیا "بس تم فارغ ہو" لیکن وہ کہتے ہیں غصہ میں کہا، اور میرا مطلب صرف یہ تھا کہ جو کرنا ہے کرو تمہیں طلاق دینے کا سو چ بھی نہیں سکتا، کیا طلاق ہو جاتی ہے ؟ جب میں نے شوہر سے پوچھا تو اُنہوں نے کہا اللہ کی قسم میری طلاق کی نیت نہیں تھی تمہارا اپنا طلاق کا دل ہے، تم کسی اور کی طرف جانا چاہتی ہو، تب اسکا مطلب طلاق لے رہی ہو، صرف غصہ میں کہا جو کرنا ہے کرو فارغ ہو، پھر اسکے بعد ہم ہنسی خوشی ساتھ رہنے لگے، اب اچانک سے مجھے وہم ہو رہا ہے اب، میرے شوہر کہتے ہیں اگر طلاق دینی ہوئی تو طلاق لفظ کےساتھ دوں گا، فارغ سے میرا مطلب طلاق نہیں ہے، میں بار بار اُنکو پوچھتی ہوں وہ کہتے ہیں تمہیں طلاق چاہیئے ہے تب پوچھتی ہو۔
واضح ہو کہ "فارغ ہو" کے لفظ سے عند القرینہ طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے، لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے اگر واقعۃً مذکور جملہ "اگر کوئی مرد آیا تو طلاق دے دوں گا" کہنے کے بعد یہ الفاظ " تم فارغ ہو" کہہ دیئے ہوں تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور بغیر تجدیدِ نکاح کے ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہوا ہے اُس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کریں، جبکہ سائلہ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی، البتہ اگر دونوں دوبارہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں تو دورانِ عدت بھی باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرنے کے بعدایک ساتھ رہ سکتے ہیں،تاہم اس صورت میں شوہر کو آئندہ کے لئے فقط دو طلاقوں کااختیار ہوگا،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
و فی الدر المختار: الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام بائن) ومرادفها كبتة بتلة (يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة، والنية باطنة ولذا تقبل بينتها على الدلالة لا على النية إلا أن تقام على إقراره بها عمادية۔اھ (ج:3/ص:296)۔
و في الھداية: واذا کان الطلاق بائنا دون الثلٰث فلہ ان یتزوج فی العدۃ وبعد انقضائھا۔اھ (ج:2/ص:409)۔