اگر کوئی شخص ایک عالمِ دین سے مسئلہ پوچھنے کی نیت سے یوں کہے کہ میں نے اپنے بیوی کو طلاق دی ہے ؛یا ایک کاغذ پر لکھےہوۓ طلاق کے الفاظ پڑھے تو اس کا کیا حکم ہے؟ توایسی صورت میں طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں؟
طلاق کا مسئلہ معلوم کرنے یا تحریر پڑھنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی -