میں اپنے شوہر کو یہ بتا رہی تھی کہ "فارغ کیا, چھوڑ دیا "ان سب الفاظ کے ادا کرنے سے بھی طلاق ہو جاتی ہے ان کو اس کے بارے میں کوئی معلومات بھی نہ تھی , تو میں ان کو سمجھا رہی تھی کہ ایسے الفاظ مت استعمال کیا کریں , تو انہوں نے میری بات دہرا دی کہ" میں تمہیں چھوڑتا ہوں , کیا ایسا کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟ " یہ بات کرتے ہوئے وہ کسی قسم کے غصے میں نہیں تھے نہ ہماری کوئی لڑائی ہو رہی تھی اور ان کی نیت بھی نہیں تھی , اس بات کے دوران وہ ہنس رہے تھے کوئی غصے کی کیفیت نہیں تھی ,اس بات کو کافی عرصہ گزر چکا ہے ہے , اس کے بارے میں کیا رہنمائی ہے ؟ میرے شوہر کو بالکل بھی نہیں پتہ کہ طلاق کسی اور لفظ سے بھی ہو سکتی ہے , ان کو یہی پتہ ہے کہ طلاق کے لئے صرف طلاق ہی بولا جاتا ہے -
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے اگر مذکور جملہ (میں تمہیں چھوڑتا ہوں کیا ایسا کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے )اسی طرح کہا ہو تو اس سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ بات بات پر طلاق کے جملہ کہنے سے احتراز کرنا چاہیۓ -