بخدمت جناب مفتی حضرات ! السلام علیکم
نہایت مؤدّبانہ گذارش ہے کہ ہماری مسجد جس کی پہلی صف محراب کے مطابق بالکل درمیان میں ہے ، جبکہ دوسری ، تیسری اور باقی صفیں محراب کے درمیان میں نہیں ہیں ، ایک طرف سے جگہ ۲۵ فٹ ہے اور دوسری طرف سے ۳۵ فٹ ہے ۔ لہٰذا قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کر یں کہ اس مسجد میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
امام کا صف کے بالکل در میان میں کھڑاہو ناسنت اور قولی احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے اور مساجد میں محراب بنانے کا مقصد بھی یہی ہے تا کہ امام در میان صف میں رہے، اس لۓ مذ کور مسجد میں نماز پڑھنا بلاشبہ درست ہے ، مگر صورتِ مسئولہ میں چونکہ سوائے پہلی صف کے دیگر تمام صفوف کے اعتبار سے امام کا وسط میں نہ ہو نا پایا جارہا ہے جو کر اہتِ تنزیہی کے زُمرے میں آسکتا ہے ، لہٰذا مسجد کے امام موصوف اور انتظامیہ کو چاہیۓ کہ عام نمازوں میں محراب کی بجائے پہلی صف میں مصلیٰ بچھا یا کر یں تا کہ امام صاحب کا تمام صفوف کے وسط میں واقع ہونا پایا جائے اور یہ طبعی کر اہت بھی نہ رہے ۔
في المشكاة: وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "توسطوا الإمام ، وسدوا الخلل" اھ (1 / 99) وفي الدر المختار: قال الشمني: وينبغي أن يأمرهم بأن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا مناكبهم ويقف وسطا اھ(1/ 568)۔
وفى الشامية: تحت (قوله ويقف وسطا) قال في المعراج: وفي مبسوط بكر: السنة أن يقوم في المحراب ليعتدل الطرفان، ولو قام في أحد جانبي الصف يكره اھ (1/ 568)۔