السلام علیکم مکرم و محترم مفتی صاحب!
ایک دینی مسئلہ سے متعلق فتویٰ در کار ہے ، میں نے فقہی مسائل کی ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ نمازِ تراویح کی امامت کروانے والے امام صاحب کی داڑھی اگر ایک مشت سے چھوٹی ہو اور وہ اپنی داڑھی کاٹتے بھی ہوں تو ایسی صورت میں ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ہے ،ہمارے گھر کے قریب ایک جگہ پر اس سال نمازِ تراویح ادا کی گئی اور مجھے بھی وہاں شرکت کی دعوت دی گئی، لیکن وہاں کے امام صاحب کی داڑھی ایک مشت سے چھوٹی تھی اور وہ اپنی داڑھی کاٹتے بھی تھے ، امام صاحب اور انتظامیہ سے انفرادی ملاقات کے دوران میں نے مندرجہ بالا دینی مسئلہ کا حکمت کے سا تھ تذکرہ کیا اور مولانا یوسف لدھیانوی صاحبؒ کی کتاب کا حوالہ بھی دیا، مگر ان حضرات نے یہ کہا کہ قرآن و حدیث میں اس طرح کی کوئی قید موجود نہیں ہے اور انہوں نے کہا کہ اگر اُن کے پاس قرآن وحدیث سے کوئی دلیل ہے تو لے آؤ ،ہم اس کو تسلیم کر لیں گے، مزید انہوں نے یہ کہا کہ سعودی عرب میں امام کعبہ اور دیگر بیسیوں علماء کی داڑھی بھی ایک مشت سے چھوٹی ہے تو امام کعبہ کے پیچھے جو لاکھوں کا اجتماع نمازیں پڑھتا ہے اور حج ادا کر تا ہے تو کیا ان لاکھوں لوگوں کی نمازیں بھی ضائع ہیں ، پاکستان کے جیّد علماء امامِ کعبہ کے پیچھے کیوں نمازیں پڑھتے ہیں ، جبکہ اُن کے پیچھے تو نماز ہوتی ہی نہیں ہے ،مزید یہ کہ مصر میں بھی ہزاروں علماء کی داڑھیاں بھی ایک مشت سے چھوٹی ہیں ، براہِ کرام قرآن وحدیث کی روشنی میں اس مسئلے سے متعلق محقق فتویٰ عنایت فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیر واحسن الجزا
داڑھی رکھنا واجب اور بڑی ہونے کی صورت میں ایک مشت کے بقدر ہونا بھی واجب ہے اور احادیثِ صحیحہ اور تما م انبیاءِ کرام اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متفقہ طرزِ عمل سے ثابت ہے، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں اس کو مسلمانوں اور مجوس ویہود وغیرہ کفار کے درمیان مابہ الامتیازاور فرق قرار دیا گیا ہے، لہٰذا اس کےخلاف کرنا اور داڑھی ایک مشت سے کم کرانا ، گناہ اور فسق ہے اور ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا ،چاہے تراویح میں ہو یا دیگر نمازوں میں جائز نہیں، سوال میں مذکور لوگوں کو چاہیۓ کہ گناہ پر اصرار اور اس کے لۓ حیلے بہانے تلاش کرنے سے اجتناب کریں اورخوفِ خدا اور فکرِ آخرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اتبّاعِ شریعت میں اپنی سعادت و کامیابی سمجھیں جہاں تک ائمہ حرمین کا تعلق ہے تو وہ اس گناہ سے بری ہیں، ہماری معلومات کے مطابق ائمہ میں سے کوئی بھی داڑھی منڈا نہیں ہے اور اہلِ مصر اپنے مخصوص حالات کی بناء پر مجبور ہیں، اگر مجبور نہ بھی ہوں تب بھی ان کے عمل کو جوازکی دلیل بنالینادین سے ناواقفیت پر مبنی ہے، جس سے احتراز لازم ہے ۔
فی صحيح مسلم: عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «خالفوا المشركين أحفوا الشوارب، و أوفوا اللحى» اھ (1/ 222)۔
وفیه أیضاً: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «جزوا الشوارب، وأرخوا اللحى خالفوا المجوس» اھ (1/ 222)۔
وفی الفتاوى الهندية: وتجوز إمامة الأعرابي والأعمى والعبد، وولد الزنا والفاسق. كذا في الخلاصة إلا أنها تكره. هكذا في المتون اھ (1/ 85)۔
وفی الدر: (ویکره امامة عبد) (إلی قوله) فاسق الخ وفى الشامية: تحت (قوله وفاسق) وفي المعراج قال أصحابنا: لا ينبغي أن يقتدي بالفاسق إلا في الجمعة لأنه في غيرها يجد إماما غيره. اهـ. (1/ 560)۔