۱۔ اگر ایک شخص جس کو قرآن دوسرے شخص سے زیادہ یاد ہو، لیکن وہ اپنی داڑھی تراشتا ہو اور ایک مٹھی سے کم رکھتا ہو تو کیا اس کو امامت کی اجازت ہے؟ میں نے صحیح مسلم اور صحیح نسائی میں پڑھا ہے کہ امامت وہ کر سکتا ہے جو قرآن زیادہ جانتا ہو، سنت سے زیادہ واقف ہو، جس نے ہجرت کی ہو دوسروں سے پہلے اور عمر میں زیادہ ہو۔
۲۔ اگر ایک شخص مکمل طور پر داڑھی ختم کرتا ہو تو اس کی امامت کے بارے میں کیا فتویٰ ہے؟
سائل نے جو پڑھا بلاشبہ درست ہے، مگر یہ اس شخص کے لۓ ہے جو فسق وفجور سے بچتا ہو، جبکہ ایک مشت سے کم داڑھی منڈاونے، کٹانے، تراشوانے والا فاجر ہے، اس لۓ مذکور صورت میں وہی شخص زیادہ اولیٰ بالامامت ہے جو متبعِ شریعت ہے۔
فی حاشية ابن عابدين: وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا اھ (1/ 560)۔
وفی فتح القدیر: قال أصحابنا لا ینبغی أن یقتدی بالفاسق إلا فی الجمعة لأن فی غیرها یجد إمامة غیره اھ(۱/۳۰۴)۔
وفی البحرالرائق: وکره امامة العبد والأعراب والفاسق والمبتدع والأعمیٰ وولد الزنا اھ ( ۱/۳۴۹)۔
وفیه أیضا: وینبغی أن یکون المختار قولا ثالثا وھو أن یکون حافظا للقدر المفروض والواجب اھ (۱/۳۴۷)۔