کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک جگہ ہے جس میں آبادی بہت کم ہے وہاں ایک مسجد ہے، جس کا امام بریلوی مسلک سے تعلق رکھتا ہے اور اس جگہ اور کوئی مسجد بھی نہیں ہے۔
اب آیا ان کے پیچھے جمعہ اور دوسری نمازیں پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو جو نمازیں پڑھی ہیں کیا ان کا اعادہ کیا جائےگا یا نہیں؟ تفصیلی جواب تحریر فرما کر ممنون فرمائیں۔
مذکور موضع میں اگر صحتِ جمعہ کی شرائط نہ پائی جاتی ہوں تو وہاں ظہر ہی کی نماز پڑھنا لازم ہے نمازِ جمعہ پڑھنا جائز نہیں ،چاہے دیوبندی امام ہو یا بریلوی، جبکہ بریلوی امام اگر محض بدعات کا مرتکب ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی اور اس کو اپنے اختیار سے امام بنانا درست نہیں ہے، تاہم اگر کوئی صحیح العقیدہ متبعِ سنت امام میسر نہ ہو تو باَمرِ مجبوری اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے اور جماعت کا ثواب بھی مل جائے گا اور جو نمازیں پڑھ لی گئی ہیں ان کا اعادہ لازم نہیں ۔
ففي الهداية: لا تصح الجمعة إلا في مصر جامع أو في مصلى المصر ولا تجوز في القرى لقوله عليه الصلاة والسلام لا جمعة ولا تشريق ولا فطر ولا أضحى إلا في مصر جامع والمصر الجامع کل موضع له أمیر وقاض ینفذ الأحکام ویقیم الحدود اھ (1/82)۔
وفی الفتاوى الهندية: قال المرغيناني تجوز الصلاة خلف صاحب هوى وبدعة ولا تجوز خلف الرافضي والجهمي والقدري والمشبهة ومن يقول بخلق القرآن وحاصله إن كان هوى لا يكفر به صاحبه تجوز الصلاة خلفه مع الكراهة وإلا فلا اھ(1/ 84)۔
وفیها أیضاً: ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي. كذا في الخلاصة اھ (1/ 84)۔