کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک حافظہ لڑکی صرف اپنے قرآن کو یاد رکھنے کے لیے رمضان المبارک میں اپنے گھر کی مستورات کے ساتھ باجماعت تراویح پڑھنا چاہتی ہے تو کیا شرعاً اس کی گنجائش ہے ؟
عورت کی امامت اور عورتوں کی تنہا جماعت مکروہِ تحریمی ہے، جس سے احتراز لازم ہے، تاہم حافظہ لڑکی اپنی منزل یاد رکھنے کے لۓ صرف اپنے گھر کی خواتین کو بغیر کسی تداعی کے رمضان المبارک میں تراویح پڑھائے تو اس کی گنجائش ہے۔
ففی الدر المختار: (و) يكره تحريما (جماعة النساء) ولو التراويح اھ (1/ 565)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرضا أو نفلا اھ(1/ 565)۔