میری شادی کو 9سال ہو گۓ لیکن اولاد نہیں ہوئی , پھر ارادہ کیا کہ دوسری شادی کروں گا، رشتے کے حوالے سے جہاں بات چلائی انہوں نے جب پہلی بیوی کے بارے میں پوچھا تو میں نے بتایاکہ ہماری علیحدگی ہو گئی (حالانکہ حقیقت میں نہیں ہوئی تھی) پھر انہوں نے پوچھا کہ آپ نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے طلاق دے دی تو میں نے کہا جی ہاں، اس کے بعد پھر کسی اور بات پر بھی پوچھا گیا تو یہ میں نےکہا ہاں جی اسے چھوڑ دیا ،براۓکرم اس حوالے سے شرعی حکم کے بارے میں آگاہ کریں ,کیا میرا اس طرح کسی اور کے سامنے یہ کہنے سے طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟
واضح ہو کہ طلاق کا اقرار کرنے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے خواہ اقرار جھوٹا ہی کیوں نہ ہو ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے پہلی بیوی کے بارے میں پوچھنے پر مذکور جملہ "ہماری علیحدگی ہو گئی "اگر طلاق کی نیت سے کہا ہو تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،جبکہ اس کے بعد کسی کے طلاق کےبارے میں پوچھنے پرسائل نے جو مذکور جملے "جی ہا ں ، ہاں جی اسے چھوڑ دیا " کہے ہیں ،اس سے اگر سائل کی نیت طلاق کی نہ ہو , بلکہسابقہ طلاق کی خبر دینا مقصود ہو تو مذکور جملوں سے سائل کی بیوی پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ،البتہ اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو اس کیلئے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا لازم ہے ،تاہم آئندہ کیلئےشوہر کے پاس فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہوگا ۔
فی الشامیۃ : و لو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة . اهـ .(3/236)-
وفیہا ایضاً : و إذا قال : أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال : قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب ، كذا في كافي الحاكم اھ(3/293)-
و فی الفتاوى الهندية : و في الفتاوى لم يبق بيني و بينك عمل و نوى يقع كذا في العتابية اھ(1/376)-
و فی بدائع الصنائع : و لو قال لامرأته : أنت طالق فقال له رجل : ما قلت ؟ فقال : طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء ؛ لأن كلامه انصرف إلى الإخبار بقرينة الاستخبار . (3/102)-