السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
جناب ایک شخص محمد عرفان تجلی نے اپنی بیوی" پری گل" کو تین گواہان کی موجودگی میں تین طلاق دیدیں, وہ پچھلے بارہ سال سے گھر داماد بن کے رہ رہا ہے اور نشہ کرنے لگ گیا جس وجہ سے وہ اپنی بیوی سے غیر شرعی حاجات کا تقاضا بھی کرتا رہا اور مار پیٹ بھی کرتا تھا اور اپنے بیوی اور بچے کا نان نفقہ پورا نہیں کر پانے کی وجہ سے اپنے پورے حوش و حواس میں تحریر نامہ برائے طلاق تحریر کر کے طلاق دی تین گواہان کی موجودگی میں , اسکی شریعت کے احکام کے مطابق وضاحت فرما دیں کہ طلاقِ ثلاثہ ہوئی یا نہیں ہوئی ؟
جزاکم اللہ خیرا
صورتِ مسئولہ میں مسمی محمد عرفان نےاگر اپنی بیوی کو تین بار طلاق کے الفاظ کہدیے یا تحریر کردیے ہوں تو اس سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ خاتون عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے -