کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کمپنی میں ’’مصلیٰ‘‘ بنا ہوا ہے، جس کے لۓ باقاعدہ طور پر امام مقرر ہے اور اس میں چار وقت کی نماز امامِ منصوب کی اقتداء میں باجماعت ادا کی جاتی ہے ، لیکن مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ’’مصلیٰ‘‘ میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ سارے نمازی ایک ساتھ باجماعت نماز ادا کر سکیں، اس لۓ کچھ نمازی پہلی جماعت کے بعد دوبارہ کسی شخص کی اقتداء میں جماعت کرتے ہیں، تو کیا ایسی مجبوری کی صورت میں جماعتِ ثانیہ کی اجازت ہوگی؟ اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جماعت کے وقت ورکرز کے لۓ مشینیں بند کرنا ممکن نہیں ہوتا، اس لۓ وہ بعد میں دوسری جماعت کر لیتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں جماعتِ ثانیہ کی اجازت ہوگی؟ شریعت کی رو سے جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں۔
اولاً : تو کمپنی مالکان کو چاہیۓ کہ کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں تمام نمازی بہ آسانی ایک جماعت کے ساتھ نماز کا اہتمام کرسکیں، اگر یہ ممکن نہ ہو اور واقعۃً مذکور جگہ میں اتنی گنجائش نہ ہوکہ سب نمازی بیک وقت اس میں آ سکیں اور جگہ کی تنگی کی وجہ سے باَمرِ مجبوری دوسری جماعت کی ضرورت پڑتی ہو تو اسی جگہ پر دوسرے امام کی اقتدا میں بقیہ لوگ باجماعت نماز ادا کر سکتے ہیں ۔
فى البدائع الصنائع: وإذا علموا أنها لا تفوتهم يتأخرون فتقل الجماعة، وتقليل الجماعة مكروه، بخلاف المساجد التي على قوارع الطرق؛ لأنها ليست لها أهل معروفون، فأداء الجماعة فيها مرة بعد أخرى لا يؤدي إلى تقليل الجماعات اھ وفيه أيضا: لأن التكرار يؤدي إلى تقليل الجماعة، لأن الناس إذا علموا أنهم تفوتهم الجماعة فيتعجلون تكثر الجماعة اھ (۱/۱۵۳)۔