السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جنابِ والا! میں ایک سرکاری کالونی میں رہتا ہوں، ہمارے امام مسجد حافظ بھی ہیں، پہلے اس کالونی کے محکمہ تعلیم میں استاد تھے، لیکن اب پنشن لے لی ہے، کالونی میں رہائش مفت بذمہ امانت افسران نے دی ہے، عرصہ بیس سال سے رہ ہے ہیں، اور کوئی اُجرت نہیں لیتے۔
پوچھنا یہ ہے کہ اس نے اپنے گھر کا (جو سرکار نے دی ہے) بجلی کا میٹر بند کیا ہے، کالونی میں دوکان بھی ہے جو اس کے بیٹے چلاتے ہیں، اس کا بھی میٹر بند ہے، گھر کا خود سربراہ ہے، بیٹے اس کی نگرانی میں کام کرتے ہیں ، کیا اس صورت میں اس کے پیچھے نماز ہوتی ہے، جبکہ وہ پانچ وقت امامت کرتا ہے، اور جمعہ بھی پڑھاتا ہے، اگر ہوتی ہے تو ٹھیک اور نہیں ہوتی تو مقتدیوں کو کیا کرنا چاہیۓ؟
صورتِ مسئولہ میں امام موصوف اگر واقعۃً بجلی چوری کے گناہ کے مرتکب ہیں تو اس صورت میں ان کی اقتداء میں اس وقت تک نماز پڑھنا مکروہ ہے جب تک کہ وہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار نہ کرلیں اور یہ کہ اس دوران جتنی بجلی صرف کی ہے اس کا واقعی بل سرکاری خزانہ میں جمع نہ کرادیں ،لہٰذا امام موصوف پر لازم ہے کہ مذکور ناجائز عمل سے احتراز کر کے اس کی تلافی کی صورت اپنائے تاکہ اس کی اقتداء میں بلا کراہت نماز ارا ہو سکے۔
ففی التنوير: ويكره إمامة عبد واعرابي وفاسق وأعمیٰ اھ
وفی حاشية ابن عابدين: وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا اھ (1/ 560)۔