کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی ہے اس نے چار ماہ تبلیغ میں بھی لگایا ہے اور سالانہ چلہ بھی لگاتا ہے اور مسجد کا متولی بھی ہے، اس کی بیوی اور بیٹی ایک فیکٹری میں کام کرتی ہیں، حالانکہ ان کے پاس اپنا گزارا بھی صحیح ہے اس کے با وجود یہ فیکٹری میں کام کرتی ہیں اور اس آدمی کی بیوی ایک غیر محرم مرد کے ساتھ کراچی سے سکردو جا کے آئی ہو جو کہ یہ آدمی اس مذہب کا نہیں ہے اور یہ اس عورت کا کوئی رشتہ دار بھی نہیں ہے اور یہ آدمی شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور یہ تبلیغی اور شیعہ کئی سالوں سے ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے تھے، یہ سب کچھ ان کے درمیان ایک سال رہا پھر اختلاف پیدا ہوگیا اور یہ تبلیغی آدمی مسجد میں نمازیں بھی پڑھاتا ہے، اکثر لوگ اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، کیا ایسے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کی طرف منسوب رذائل اگر واقعۃً درست ہیں تو یہ شخص اپنے اختیار سے ان امور کی اجازت دینے یا اگر منع نہیں کرتا تو اس وجہ سے سخت گناہ گار ہوا ہے ، اس پر اوّلاً تو یہ لازم ہے کہ اپنے ان ناجائز امور پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کرے اور ثانیاً یہ کہ متعلقہ خواتین کو اس طرح غیر محرم مردوں کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور سفر کرنے سے منع کرے اور ثالثاً یہ کہ آئندہ کے لۓ بھی ان امور سے مکمل احتراز کرے، تاکہ اس کی اقتداء میں نماز بھی درست اور بلا کراہت ادا ہوسکے ۔
فى صحيح مسلم: عن أبي معبد، قال: سمعت ابن عباس، يقول: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب يقول: «لا يخلون رجل بامرأة إلا ومعها ذو محرم، ولا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم» اھ (2/ 978)۔
وفی الدر المختار: (و) لها (النفقة) بعد المنع (و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة؛ و) لها (زيارة أهلها بلا إذنه ما لم تقبضه) أي المعجل، فلا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة اھ (3/ 145)۔
وفی الفتاوى الهندية: ولو صلى خلف مبتدع أو فاسق فهو محرز ثواب الجماعة لكن لا ينال مثل ما ينال خلف تقي. كذا في الخلاصة اھ (1/ 84)۔