کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
میاں بیوی کے تنازع کے در میان شوہر نے بیوی سے طلاق دینے کی نیت سے کہا کہ ’’یہاں تک بس کرتے ہیں‘‘ پھر ان کا جھگڑا چلتا رہا یہاں تک کہ بیوی نے جدا ہونے کا مطالبہ کیا کہ چلو ہم جدا ہو جاتے ہیں، جس کے جواب میں شوہر نے کیا کہ ’’پہلے جدا ہو جاتے ہیں، اپنے اپنے راستے پکڑتے ہیں‘‘ اب پوچھنا یہ ہے کہ مذ کور صورتِ حال میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور اب میاں بیوی کے لۓ کیا حکم ہے ؟
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق میاں بیوی کے درمیان ہونے والے واقعہ میں شوہر نے جو پہلا جملہ کہا ہے ’’ یہاں تک بس کرتے ہیں‘‘ اس میں طلاق کا کوئی صریح یا کنایہ لفظ موجود نہیں، بلکہ مذکور جملے میں میاں بیوی اپنے ازدواجی معاملات مزید جاری نہ رکھنے کے ارادے ظاہر کر رہے ہیں، اس لۓ مذکور جملہ طلاق کی نیت سے کہنے کے باوجود مذکور شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اسی طرح بقیہ جملے بھی عرف اور محاورے میں ’’انشاءِ طلاق‘‘کے لۓ مستعمل نہیں، بلکہ ان جملوں سے مستقبل میں طلاق دینے کا اظہار مقصود ہوتا ہے، چنانچہ مذکور جملوں کی وجہ سے بھی مذکور شخص کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ ان کا نکاح حسبِ سابق بر قرار ہے، البتہ آئندہ کے لۓ طلاق کے معاملے میں احتیاط چاہیۓ۔
كما في الفتاوى الهندية: (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق، (وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي اھ (1/ 348)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية اھ (3/ 230)۔