السلام علیکم!
بعد سلام عرض ہے کہ آپ ایک مسئلہ کی طرف نظر ثانی فرما دیں.
میرا بھائی جسکا نکاح ٢٧ نومبر ٢٠٢٠ کو میری پھوپھی کی بیٹی سے ہوا تھا ،رخصتی نہیں ہوئی تھی ، اب ٣ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد جب رخصتی کا وقت آیا ، تو میری پھوپھی نے کہا کہ لڑکی رخصتی کے لیے راضی نہیں ہے ، وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے اور میں نے اس کا نکاح زبردستی کروایا تھا مجھے لگا تھا کہ یہ بدل جائے گی ، لیکن وہ ابھی بھی بضد ہے کہ وہ رخصتی نہیں کرنا چاہتی ، لڑکی طلاق چاہتی ہے ، اب آپ اس مسئلے کا حل بتائیں کہ کیا میرا بھائی ایک ہی وقت میں تین دفعہ طلاق دے سکتا ہے؟ اور اگر ایسا مناسب نہیں ہے تو آپ اس کا طریقہ کار بتا دیں ساتھ ہی حق مہر کے بارے میں بھی بتا دیں، کیونکہ میرا بھائی اور بھابھی کبھی تنہائی میں بھی نہیں ملیں. شکریہ!
صورت مسئولہ کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس طور پر کہ سائل کی پھوپھی اپنی بیٹی کا نکاح کرانے کے بعد رخصتی میں رکاوٹ بن رہی ہو ، تو ان کا یہ عمل شرعا اور اخلاقا نامناسب ہے، اس لیے ا اپنی بیٹی کو مناسب طریقہ سے سمجھا کر رخصتی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے، تاہم اگر وہ رخصتی کے لیے راضٰی نہیں ہوتی، اور سائل کے بھائی سے اپنا رشتہ ختم کرنا چاہتی ہے، اور ان دونوں کے درمیان نکاح کے بعد ابھی تک خلوت صحیحہ(تنہائی میں ایسی ملاقات جس میں ازدواجی تعلق قائم کرنے سے شرعی اور فطری کوئی روکاوٹ نہ ہو) نہ ہوئی ہو، تو ایسی صورت میں طلاق دینے کے بعد سائل کے بھائی کے ذمہ طے شدہ حق مہر کا آدھا دینا لازم ہوگا۔
لیکن چونکہ سائل کے بقول اس صورت میں طلاق کا مطالبہ بھی لڑکی کی طرف سے ہے، اس لیے اگر ان کے مطالبہ پر طلاق دینے کے لیے حق مہر کی معافی کی شرط رکھ دی جائے ، تو اس صورت میں نصف مہر کی ادائیگی بھی لازم نہ ہوگی ، جبکہ طلاق دیتے وقت ایک ساتھ تین طلاق دینے کے بجائے ایک طلاق دیکر اس رشتہ کو ختم کرنا کافی ہے۔