جنابِ اعلی
سوال یہ ہے کہ میری ایک عزیزہ کو ان کے شوہر نے ان کی غیر موجودگی میں چند حضرات کے سامنے تین دفعہ طلاق دی , کیا بیوی کی غیر موجودگی میں شوہر کی طرف سے بیوی کے لئے تین دفعہ طلاق کے الفاظ ادا کرنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
اگر آپ کا جواب مثبت ہے تو کیا یہ تین طلاقیں ہوں گی یا ایک؟
اس سے پہلے بھی یہ حضرت , واٹس ایپ کے ذریعے بصورتِ پیغام ایک دفعہ طلاق دے چکے ہیں لیکن تین ماہ میں رجوع کر لیا تھا-
آپ کے جواب کا منتظر , مزید تفصیل کے لۓ جب چاہیں رابطہ کر سکتے ہیں۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کے لۓ بیوی کا سامنے موجود ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کی عدمِ موجودگی میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لہذا جب شخص مذکور نے پہلے ایک طلاق اور رجوع کے بعد اب حالیہ واقعہ میں تین مرتبہ طلاق دیدی ہے ، تو اس سے اس کی بیوی پر بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہٰیں ہوسکتا ، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتاہے، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد کسی بھی دوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔