میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی زوجہ کو کورٹ کے ذریعے سے ایک ایک کر کے یعنی ( 2 )طلاق بیج دی ہیں مگر میری زوجہ کو کوٹ سے 1 ہی موصول ہوئی ہےاور ایک بات آج سے 2 سال قبل میرے گھر والوں نے بھی مجھ سے 1 طلاق نامے پر زور دے کر دستخط کراۓ تھے میری زوجہ کی غیر موجودگی میں پر میں حلف اٹھاکر کہ سکتا ہوں کہ میں نے وہ نیت نہیں کی کہ طلاق دو گا اور کمرے سے باہر نکل کر پھاڑ اجبکہ میری زوجہ کو نہ تو اس بات کا علم نہ معلوم
اب میرے اور میری زوجہ کے تمام معاملات حل ہو گیے ہیں اور میرے تین بچے عمر 2 سال سے 6 سال ہے اور اپنی زوجہ کو گھر لے کر آنا چاہتا ہوں۔
صورت مسئولہ میں اگرسائل نے دو سال قبل اپنی بیوی کو واضح الفاظ جیسے تجھے طلاق دیتاہوں وغیرہ الفاظ کے ساتھ تحریری طورپر ایک طلاق دیدی تھی، اگر چہ گھروالوں کے اصرار پر دیدی ہو، تو وہ طلاق شرعا واقع ہوچکی تھی، اس کے بعد دوران عدت رجوع کرنے کی صورت میں وہ نکاح بحال بھی ہوچکاتھا، اور اس کے بعد اب حالیہ واقعہ میں جب سائل نے کورٹ کے ذریعہ مزید دو طلاقیں بھی دیدی ، اگرچہ بیوی کو ایک طلاق موصول ہوئی ہو تب بھی اس پر مجموعی طورپر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتاہے، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا۔ جبکہ عورت ایام عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔