السلام علیکم مفتی صاحب ! میں ایک سکول ٹیچر ہوں اور اس کے ساتھ میں ایک مدرسے میں تیسرے درجے کا طالب علم ہوں۔ میری عمر 35 سال ہے ۔ ہمارے علاقے میں بہت سے جعلی پیر عامل وغیرہ ہے جو لوگوں کی جان مال سے کھیلتے ہیں۔ اس کو دیکھ کر مجھے جو بڑا دکھ ہوتا ہے ۔ ایک دن میری ملاقات ایک مولانا صاحب سے ہوئی جو کہ ایک امام ہونے کے ساتھ ساتھ قرآنی و شرعی عملیات کا ماہر ہے ۔ اس نے میرے نیک جذبے اور خلوص کو دیکھ کر مجھے اجازت دی اور ساتھ یہ بھی کہ میں بھر پور نگرانی بھی کروں گا۔ اس نے کہا یہ اجازت اور نگرانی ہر کسی کے لیے میں نہیں کرتا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں عمل کروں گا تو بڑا کروں گا۔ میں چالیس راتوں کی چلوں کی خطرات اور جنات کی ڈراؤنی حالات سے واقف ہوں، نہ میں کوئی ڈرپوک انسان نہیں ہوں اور نہ کوئی بہادر ۔ میں ایک عام انسان ہوں ۔ لیکن مفتی صاحب اب مسئلہ یہ ہے کہ کسی اور نے مجھے بتایا کہ اس میں رجعت کا قوی خطرہ ہوتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پھر ساری زندگی بغیر کپڑوں کے ننگا گزارو گے ۔ لیکن میرے عملیات کے استاد کا کہنا ہے کہ نگرانی کے بدولت رجعت کا امکان % 10 ہے۔ میں نے یہاں کئی علماء کرام سے پوچھا لیکن کسی نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ الحمدللہ میں یہ عملیات پیشہ کے لیے نہیں سیکھ رہا، الحمد للہ میری مالی حالت بہت اچھی ہے۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ بے چارے لوگ ان زنا کار عاملوں سے بچ جائیں ۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اس قسم کی شرعی عملیات میں ایک کامل عامل کی نگرانی میں رجعت کا امکان کتنے فیصد ہوتا ہے ؟
واضح ہو کہ " رجعت " عاملین کی اصطلاح میں عملیات کے منفی رد عمل کو کہا جاتا ہے ، جو کہ ان کے ہاں مربی عامل کی طرف سے اجازت نہ ملنے جیسی مختلف وجوہات کی وجہ سے ہو سکتا ہے ۔ لیکن چونکہ عملیات سے وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس کے متعلق زیادہ معلومات اور تجربہ نہیں، اس لیے سائل کو اس بابت کسی ماہر و مستند متبع سنت دین دار عامل کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔