السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اس مسئلہ کے بابت کہ میں نے ایک نامحرم عورت کی امداد کی اس کے ازدواجی معاملہ میں , بس اسکے ساتھ بات چیت کے ریکارڈ شدہ آواز میری بیوی نے سن لی اور جھگڑا کیا اور اس ریکارڈ کو میرے ملازمت کے ادارے کے افسروں اور جانبین کے رشتے داروں کو بھی نشرو اشاعت کردی , جس سے مجھے رسوائی اور ملازمت سے دستبردار ہونا پڑا ،بعد اسکے وہ میکے جانے کی اجازت طلب کی ہفتہ بھر کے لئے , میں نے اجازت دی پھر وہ مکرگئی , الگ گھر میں رکھنے پرآنےکی شرط رکھی، میں نے اپنی حیثیت سے قاصر ہونے پر معذرت کی , اس دوران اس عورت پر بھی رسوائی کا سامنا پیش آنےپر ایک برس کی مدت بعد میں نے اس سے نکاح کیا , ہمارے ملک میں نکاحِ ثانی پر 7سال کی سزا ہونے پر میں نے اس نکاح کو مخفی رکھا اس دوران منکوحہ اول کو طلاق سے انذار کرنے پر بھی وہ نہیں مانی , 2سال کے عرصہ بعد وہ مان گئی نباہ کے لئے , سو میں نے اسے بلالیا اپنے 2دوبچوں کی خاطر , اور اس دوران منکوحہ ثانیہ سے حمل ہوجانے پر اسقاط کردیا جس سے منکوحہ ثانی کو آج تک شکوہ اور درد بھی ہے بعد ازاں منکوحہ ثانی سے 3ماہ تک رابطہ ترک کرنا پڑا , اب اس سال شروع میں منکوحہ اول کو نکاح ثانی کی خبر ہو گئی اور اس نے طلاق طلب کیا , اور کہا کہ ہم دونوں میں سے ایک کو چُنیں , منکوحہ ثانی دونوں کے ساتھ سمجھوتے پر راضی تھیں , بالآخر اپنے ملک کے قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے منکوحہ اول کو طلاق دیدی (اس نے اپنے ماموں جو وکیل ہے اس سے ملکر مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی )اب منکوحہ ثانی کی سہیلیاں اسے الزام لگاتی ہے کہ میں نے ظلماً طلاق دی جس کی نحوست سے ہم دونوں خوش نہیں رہیں گے اور اس کا حل یہ ہے کہ میں منکوحہ ثانی کو بھی ایک طلاق دوں , چونکہ طلاق ملنے پر منکوحہ اول نے پورے محلے میں بات پھیلا کر بدنامی کردی سو انکا کہنا ہے کہ اپنی عزت بچانے کے لئے مجھ سے طلاق لیں , اب میری منکوحہ تشویش میں ہے کہ یہ ظلماً طلاق ہوا یا نہیں ؟ اور اس گناہ کا حل طلاق لینے پر محمول ہے یا نہیں ؟جواب ارسال فرماکر بندہ کا نکاح ٹوٹنے سے بچائیں فقط ۔فجزاکم اللہ احسن الجزاء
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کی پہلی بیوی کا مذکور طرزِ عمل شرعاً درست نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئی ہے ،تاہم اگر سائل دونوں بیویوں کے تمام حقوق ادا کرنے پر قادر تھا تو اس کو پہلی بیوی کو طلاق نہیں دینی چاہیئےتھی،بلکہ حکمت ومصلحت کے ساتھ سمجھاکر دونوں کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہیئے تھا،البتہ اگر سائل نے بوجہ مجبوری پہلی بیوی کو طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ کردیا ہو تو اس کی وجہ سے دوسری منکوحہ کو طلاق دینا شرعاً جائز نہیں ،بلکہ گناہ ہےجس سے سائل کو بہر صورت احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ الایۃ(البقرہ:229)۔
و فی تفسیر القرطبی : الحادية عشرة- قوله تعالى : (فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة) قال الضحاك و غيره : في الميل و المحبة و الجماع و العشرة و القسم بين الزوجات الأربع و الثلاث و الاثنين ، (فواحدة) . فمنع من الزيادة التي تؤدي إلى ترك العدل في القسم و حسن العشرة . و ذلك دليل على وجوب ذلك اھ(5/20)۔
کما فی سنن ابی داؤد : عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : «أبغض الحلال إلى الله تعالى الطلاق» اھ(2/55)۔