ترجمہ: السلام علیکم! میں نے اپنی بیوی کو ناقابلِ مصالحت اختلافات کی وجہ سے (پہلی طلاق) 22 اپریل2023ء کو دے دی، میں سمجھتا ہوں کہ پہلی طلاق کے 40 دن بعد دوسری طلاق خود بخود نافذ ہو جاتی ہے اور تیسری طلاق دوسری طلاق کے 40 دن کے بعد خود بخود نافذ ہو جاتی ہے، کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ کیایہ درست ہے؟ میرا مصالحت کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن میری سابقہ بیوی یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ میں نے اسے 22 اپریل 2023ءکو صرف ایک طلاق دی تھی اور یہ دعویٰ کرتے ہوئے عدالت گئی تھی کہ ہم اب بھی میاں بیوی ہیں اور اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، میں نے اسے 10 مئی 2023 کو ایک ای میل لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ دوسری طلاق خود بخود 01 جون 2023ء جمعرات سے اور تیسری طلاق خود بخود منگل 11 جولائی 2023ء تک ہو جائے گی، ہم اس تاریخ کے بعدساتھ نہیں رہ سکتے، شرعی طور پرکیا طلاق ہو چکی ہے یا مجھے اب بھی اسے دو بار زبانی طلاق دینے کی ضرورت ہے تاکہ طلاق مکمل ہو جائے، اس معاملے میں آپ کی مدد اور رہنمائی کا بہت شکریہ۔
واضح ہو کہ پہلی طلاق دینے کے چالیس دن بعد دوسری اور پھر مزید چالیس دن گزرنے سے تیسری طلاق کا از خود واقع ہونے کی شرعاً کوئی حقیقت نہیں بلکہ پہلی طلاق کے بعد جب تک زبانی یا تحریری طور پر دوسری اور تیسری طلاق نہ دی جائے تب تک بقیہ طلاقیں واقع نہیں ہوتیں ، البتہ طلاقِ رجعی کے بعد اگر شوہر عدت میں رجوع نہ کرے تو عدت گزرنے سے نکاح بالکلیہ ختم ہوجاتا ہے،اور عورت اپنے شوہر کے لیے اجنبیہ بن جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے مورخہ 22 اپریل 2023ء کو اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدی تھی تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک ہی طلاق واقع ہوگئی ہے، مذکور طلاق کے چالیس دن بعد دوسری اور اسی دن بعد تیسری طلاق خود بخود واقع نہیں ہوئی ،البتہ پہلی طلاق کے بعد اگر سائل نے دورانِ عدت زبانی یا عملی طور پر رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے سے دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ، اب سائل کی بیوی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ، لہذا اب سائل کو نکاح ختم کرنے کے لیے مزیددو طلاقیں دینے کی ضرورت نہیں، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہو تو اس کےلیے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار (هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت في العدة ( الی قولہ)تربص یلزم المراۃ عند زوال النکاح
وفی رد المحتار: (قولہ عند زوال النکاح) اورد علیہ ان الرجعی لا یزول فیہ النکاح الا بانقضاءالعدۃ۔(3/503)۔
وفیہ ایضاً: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب۔ (3/ 409)۔