میرا سوال یہ ہے کہ میں نے قسم کھائی کہ اگر یہ کام کروں تو " جب جب میں نکاح کروں تب تب میری بیوی کو طلاق " اور مجھ سے قسم ٹوٹ گئی ، اب نکاح کی کیا صورت ہوگی ؟ اور میں اب اس قسم کا ارتفاع چاہتا ہوں تو کوئی ایسی صورت بتا دیں کہ جس سے میرے ذمّہ سے یہ قسم ختم ہوجائے اور میں نکاح کرسکوں ، یہاں ہمارے علاقے کے ایک مولانا ہے ان سے بھی میں نے اس کے متعلق سوال کیا تھا تو وہ بولے کہ ایک صورت ہے لیکن بہت شدید ہے ہم ویسا کرنے کا نہیں کہتے، اور کہا کہ یہ قسم صرف اس صورت میں ختم ہوسکتی ہے اگر تم اسلام سے منحرف ہوجاؤ اور دوبارہ پھر اسلام میں داخل ہوجاؤ تو تمہارے ذمّہ کی ساری قسمیں ختم ہوجائیں گی ، اس کے علاوہ اس کی کوئی اور صورت نہیں ہے ، میں بہت پریشان ہوں گھر والے شادی کرانا چاہتے ہیں ، لہٰذا مجھے اس کا حل بتا دیں کہ یہ قسم اب کیسے ختم ہوگی ؟
سائل نے جب مذکور الفاظ " جب جب میں نکاح کروں تب تب میری بیوی کو طلاق " کے ساتھ قسم کھا کر بعد میں اس کی مخالفت بھی کرلی ہے تو اس سےاس پرتعلیق منعقد ہوچکی ہے ، چنانچہ اب سائل جب جب کسی عورت سے نکاح کرے گا ، تو نکاح کرتے ہی اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں و بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا ، البتہ اب اگر سائل یہ چاہتا ہو کہ اس کا کسی عورت سے نکاح بھی ہوجائے اور بیوی پر طلاق بھی واقع نہ ہو ، تو اس کا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص سائل کے علم میں لائے اور اجازت طلب کیے بغیر اپنی مرضی سے سائل کا نکاح کسی عورت سے کرادے ،پھر سائل کو معلوم ہونے پر وہ زبانی طور پر اس نکاح کی اجازت دینے کے بجائے بالفعل یعنی اپنے عمل سے مثلاً مہر بیوی کو حوالہ کرنے وغیرہ کے ساتھ اس نکاح پر رضامندی کا اظہار کرے ، تو ایسا کرنے سے سائل کا نکاح درست منعقد ہوکر میاں بیوی کا ساتھ زندگی بسر کرنا درست ہوگا ۔
کما فی الھندیۃ: و لو دخلت كلمة كلما على نفس التزوج بأن قال: كلما تزوجت امرأة فهي طالق أو كلما تزوجتك فأنت طالق يحنث بكل مرة و إن كان بعد زوج آخر هكذا في غاية السروجي اھ۔ (کتاب الطلاق ، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ، الفصل الاول فی ألفاظ الشرط ، ج۱ ، ص۴۱۵ ، ط۔ ماجدیہ ) ۔
وفیھا ایضاً: إذا قال: كل امرأة أتزوجها فهي طالق فزوجه فضولي و أجاز بالفعل بأن ساق المهر و نحوه لا تطلق الخ۔ (کتاب الطلاق ، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ، الفصل الاول فی ألفاظ الشرط ، ج۱ ، ص۴۱۹ ، ط۔ ماجدیہ ) ۔
و فی الدر المختار: ( حلف لا يتزوج فزوجه فضولي فأجاز بالقول حنث و بالفعل ) ومنه الكتابة خلافا لابن سماعة (لا) يحنث به يفتى خانية ۔ ( کتاب الأیمان ، باب الیمین فی الضرب و القتل و غیر ذلك ، ج۳ ، ص۸۴۶ ، ط۔ ایم سعید ) ۔