السلام علیکم مجھے سوال یہ کرنا تھا کہ میرا ایک دوست ہے اس کا ایک لڑکی سے نکاح ہوا تھا , اور رخصتی نہیں ہوئی تھی وہ اس ملک میں نہیں ہوتا ,لیکن اس نے پاکستان سے پیپر بنوا کے وہاں منگوائے طلاق کے , صرف اس نے سائن کیے ہیں اس پہ , اور لڑکی کے سائن نہیں ہیں طلاق نامے پہ , تو اب وہ دوبارہ رجوع کرنا چاہ رہا ہے تو اس پہ کیا حکمِ شرعی ہے , اس کا ذرا آپ مجھے بتا دیں , اور لڑکی بھی دوبارہ رجوع کرنے کے لئے راضی ہے اور لڑکا بھی راضی ہے , اور لڑکی نے ابھی تک طلاق نامے پہ سائن نہیں کیے ہیں, صرف لڑکے کے سائن ہیں اور لڑکے نے پیپر ابھی تک وہاں پاکستان بھجوائے نہیں ہے
واضح ہوکہ جس طرح زبانی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،اسی طرح تحریراً طلاق دینےسے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سائل کے دوست کا نکاح اگر باقاعدہ شرعی طور پر گواہوں کی موجودگی میں ہواہو اور اس کے بعد میاں بیوی دونوں , نکاح کے بعد ایسی خلوت میں نہ ملے ہوں , جہاں جماع سے کوئی چیز مانع نہ ہو اور اب مذکور طلاق نامہ میں طلاق کے جملے بھی الگ الگ درج ہو ں تو سائل کے دوست کا مذکور طلاق نامہ پر دستخط کرنےسے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے،اب میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو دوبارہ گواہوں کی موجودگی نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں،اور اگر اس معاملہ میں کوئی اور تفصیل ہو تو اس کی وضاحت کے بعد دوبارہ مسئلہ معلوم کیا جاسکتاہے۔