میرا نام محمد اشتیاق ہے ،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ میرا بھائی جس کی شادی اپنی کزن سے 29 اپریل 2023ء کو ہوئی تھی،اب ان کی اہلیہ کہہ رہی ہے کہ میرے شوہر نے مجھے تین بار طلاق دی ہے ،جب میرے بھائی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ میں نے تین مرتبہ بیوی کے لیے( اس طرح) طلاق کا لفظ استعمال کیا، پہلی مرتبہ جب میں نے اپنی بیوی کو انگوٹھی تحفے کے طور پر دی لیکن اس نے پہنے سے انکار کردیا، تو میں نے کہا کہ "اگر تم نے انگوٹھی نہیں پہنی تو تم مجھ پر مطلقہ ہوگی" یہ الفاظ سن کر اس نے انگوٹھی اپنے انگلی میں رکھ دی اور مجھے دیکھایا کہ میں نے آپ کی دی ہوئی انگوٹھی پہن لی، دوسرے موقع پر جب میں ہسپتال جا رہا تھا کہ مجھے گیسٹرو کا مسئلہ ہو رہا تھا ،تو میں نے مطالبہ کیا کہ پہلے میں اپنی بیوی سے ملوں گا اس کے بعد میں ہسپتال جاؤں گا، لیکن میرے والد نے مجھے مجبور کیا کہ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے پہلے ہسپتال جاؤ اس کے بعد ملنا، میں نے کہا "اگر پہلے میری بیوی سے ملاقات نہ ہوئی تو مجھ پر مطلقہ ہوگی" میرے والدنے مجھے چھوڑ دیا اور میں کمرے میں جا کر اپنی بیوی سے ملا، کبھی ہماری لڑائی ہوتی تھی اور اس نے مجھ سے کہا کہ میں اپنے والدین کو اس بارے میں بتا دوں گی ،میں نے اس سے کہا کہ " اگر تم نے ہماری لڑائی کے بارے میں بتایا تو مجھ پر مطلقہ ہوگی" عید کے دوسرے دن جب میں اسے اس کے والدین کے گھر چھوڑ کر آیا تو اس نے مجھے کہا کہ اب میں اپنے والدین کو سب کچھ بتاؤں گی،میں نے اسے کہا کہ بیوقوف نہ بنو، اس نے اپنے والدین کو سب کچھ بتا دیا، اس کے بعد میں قریب کی مسجد میں گیا اور اس طلاق کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا کہ ایک طلاق ہو گئی ہے اور اب تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنا ہو گی، اس کے بعد میں نے گواہ کے سامنے بتایا کہ وہ میری بیوی ہے اور میں اسے واپس لانا چاہتا ہوں،میں نے اپنے چچا کو بھی فون کیا اور ان سے بھی کہا کہ میں اپنی بیوی کو واپس چاہتا ہوں اور وہ بیوی ہےمیری،اب میری بیوی کہہ رہی ہے کہ میں طلاق یافتہ ہوں اور میں تمہاری بیوی نہیں ہوں، براہِ کرم میری مزید رہنمائی فرمائیں اور مجھے اس پوری کہانی کے بارے میں فتویٰ درکار ہے،اب مجھے کیا کرنا چاہیے، طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ براہ کرم مجھے اس مسئلے پر روشنی ڈالیں۔ بہت شکریہ۔
سائل نے سوال میں یہ وضاحت نہیں کی کہ سائل کی مذکور بھابھی مطلقاً وقوعِ طلاق کی دعویدار ہے، یا جو تفصیل سائل کے بھائی نے بیان کی ہے، اس کی تصدیق کرتی ہے، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر بیوی اپنے شوہر کے بیان کی تصدیق کرتی ہو تو پہلے دو مواقع پر چونکہ شرط کی مخالفت نہیں پائی گئی،اس لئے وہ دو معلق طلاقیں واقع نہیں ہوئیں ، البتہ تیسری دفعہ چونکہ بیوی نے لڑائی جھگڑے کے متعلق اپنے والدین کو بتا دیا تھا، اس لئے اس سے بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی ہے،لیکن سائل کے بھائی کے بقول چونکہ اس نے رجوع کرلیا ہے، چنانچہ یہ رجوع اگر عدت کے دوران کیا ہو تو اس سے دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے،لہذا دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں،تاہم آئندہ کےلئے سائل کے بھائی کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے ،لہذا طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے،
لیکن اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو اور بیوی شوہر کے باتوں کی تصدیق نہ کرتی ہو تو ایسی صورت میں میاں بیوی کو چاہیے کہ کسی قریبی مستنددارالافتاء حاضر ہوکر وہاں موجود مفتیانِ کرام کے سامنے مکمل وضاحت کرکے ان سے حکمِ شرعی معلوم کریں۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا۔(1/420)۔
بدائع الصنائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له هو نقصان العدد، فأما زوال الملك، وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال، وإنما يثبت في الثاني بعد انقضاء العدة، فإن طلقها ولم يراجعها بل تركها حتى انقضت عدتها بانت، وهذا عندنا۔(180/3)۔
وفی الھندیۃ:واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعها فی عدتهارضیت بذلک او لم ترض کذا فی الهدایۃ۔(270/1)۔