السلام علیکم
کیا دو طلاقوں کے بعد اگر تیسری طلاق غصہ میں دی جائے ,جب کہ میری بیوی حاملہ تھی اور جب میں نے پہلی طلاق دی تھی اسکے کچھ ٹائم بعد ہی ہم نے رجوع کر لیا تھا , کیا غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق ہو جاتی کہ نہیں ؟ ہم ساتھ رہنا چاہتے ہیں -
مہربانی فرما کر ہم دونوں کی رہنمائی فرمائیں اور اپنا فتویٰ جاری کریں . شکریہ
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں یا دورانِ حمل بھی طلاق دینےسے طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سائل نےاگر پہلی طلاق کے بعد دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا تو اس کے بعد میاں بیوی کا ازدواجی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا درست تھا ،جبکہ دوسری طلاق کے بعد بھی اگر رجوع کرلیا ہو یا دورانِ عدت سائل نے تیسری طلاق بھی دیدی ہے تو اس سے سائل کی بیوی سابقہ طلاقوں سمیت مجموعی طور پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ سائل کی بیوی عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔