ایک بائن کے بعد تجدیدِ نکاح کے بعد اگر پرانی کوئی کنائی بات(یہ رشتہ ختم ہو گیا اب جو مرضی بولو ) یاد آنے پر شوہر کو بتانا کہ یہ بھی بات ہوئی تھی اور شوہر کہے ہاں، لیکن یہ بات تجدیدِ نکاح سے پہلے کی ہے، اس کے بعد جب نکاح ہو گیا تو سب ٹھیک ہو گیا ہے، کیا یہ پرانی بات کے اقرار سے کوئی فرق تو نہیں پڑا نکاح پر ؟ نیز اگر شوہر نے تجدیدِ نکاح سے پہلے یہ مسئلہ گھر میں بتانے سے منع کیا ہو لیکن بیوی بتا دے اور اسکے بعد نکاح دوبارہ ہو گیا ہو اور بیوی کو یاد آیا ہو کہ شوہر نے کہا تھا کہ ابھی تو حل نکل سکتا ہے، لیکن اگر گھر بتایا پھر ختم ہی سمجھنا، شوہر سے پوچھنے پر شوہر قسم کھا کر کہے کہ میں نے کوئی شرط نہیں رکھی تھی بس اس لئے منع کیا تھا کہ گھر والے مسئلہ کریں گے ، یہ بات رشتہ تو ڑنے کی نیت سے نہیں بلکہ جوڑنےکی نیت سے کہی تھی ، اور بات بھی یہ کی تھی کے گھر میں نہ بتانا ابھی تو حل ہو سکتا ہے،لیکن بعد میں کوئی ما نےگا نہیں، تو کیا اس بات کے بعد نیت کے واضح ہونے پر تو اس سے نکاح پر کوئی اثر تو نہیں پڑے گا ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً شوہر نے مذکور جملہ "یہ رشتہ ختم ہو گیا اب جو مرضی بولو"کہا ہو تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، شوہر کے مذکور جملے "یہ رشتہ ختم ہو گیا اب جو مرضی بولو" کے بعد اگر بیوی نے گھر پر بتا دیا ہو تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، تاہم جب مذکور طلاقِ بائن کے بعدباقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح ہو چکا ہو تو دو نوں کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے، اور شوہر کو آئندہ کیلئے فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار حاصل ہے، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط لازم ہے، اب جبکہ تجدیدِ نکاح ہو چکا ہے تو پرانی باتوں کے تذکرے سے بچنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار : (هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا و في غيرها إطلاقا ، فلذا كان أنت مطلقة بالسكون كناية و شرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص)۔اھ (3/227)۔
و فی الفتاوىٰ الهندية : امرأة قالت لزوجها " مرا طلاق ده " (أعطنی الطلاق) فقال الزوج: " داده كير و كرده كير " (أفرضی أنه أعطی و فعل) أو قال " داده باد و كرده باد (لیکن معطی أو لیکن فعل) إن نوى " يقع و يكون رجعيا و إن لم ينو لا يقع و لو قال "داده است أو كرده است" (أعطی أو فعل) يقع نوى أو لم ينو و لا يصدق في ترك النية قضاء و لو قال : "داده إنكار أو كرده إنكار" (ظنی أنه اعطی أو ظنی أنه فعل) لا يقع و إن نوى۔اھ (1/ 380)۔