میں سعودی عرب میں جاب کرتا ہوں، یہاں پر میں نے زیادہ تر لوگوں کو موزوں (جرابوں) پرمسح کرکے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے،کیا ان کے پیچھے نماز ہوسکتی ہے؟ اگر نہیں تو ہم جماعت سے نماز کیسے پڑھ سکتے ہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل جس امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہو، اگر وہ عام باریک اونی یا سوتی جرابوں پر مسح کرتا ہو، اس کے موزے باقاعدہ چمڑے کے نہ ہوں یا ان جرابوں پر چمڑا لگا ہوا نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس کی اقتداء میں نماز کی ادائیگی سے احتراز لازم ہے، جبکہ جماعت کےساتھ نماز کی ادائیگی کیلئے سائل کو قریبی کسی اور مسجد میں نماز پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیئے۔
کما في بدائع الصنائع: وأما المسح على الجوريين، فإن كانا مجلدين، أو منعلين، يجزيه بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم يكونا مجلدين، ولا منعلين، فإن كانا رقيقين يشفان الماء، لا يجوز المسح عليها بالاجماع۔(10/1)۔