ترجمہ: میرے شوہر نے کار میں ایک طلاق دی ،ان کے الفاظ تھے "طلاق ہے نیچے اتر کار سے" انہوں نے چار مہینہ رجوع نہیں کیا،سو دن یہی کہا کہ میں نے طلاق نہیں دی،اب وہ مان گیا ہے کہ میں نے یہ الفاظ بولے تھے ،کیا اس طرح ایک طلاق واقع ہوچکی ہے ، شریعت کا کیا حکم ہے۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی طرح کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو ،اس طور پرکہ سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو مذکور الفاظ "طلاق ہے ،کار سے نیچے اتر" کہے ہوں،اس نے طلاق کو کسی کام کے ساتھ معلق نہ کیا ہو اور نہ ہی اس کے علاوہ الفاظ کہے ہوں اور اب وہ ان الفاظ کا اقراری بھی ہو، تو مذکور الفاظ سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی،جس کے بعد سائلہ کے شوہر کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا حق حاصل تھا ، البتہ اگر اس نے دورانِ عدت رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے سے یہ طلاق ،طلاقِ بائن بن چکی ہے ،اور اس کی بناء پر دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ہے ، اب اگر سائلہ اور اس کاشوہر دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہتے ہیں تو دونوں کی باہمی رضامندی سے نئے حقِ مہر کے تقرر اور شرعی گواہان کو موجودگی میں تجدیدِ نکاح ضروری ہوگا، البتہ تجدیدِنکاح کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا ،لہذا طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کرنی چاہیے۔
کمافی الھندیۃ: و اذا طلق الرجل امراتہ تطلیقۃ رجعیۃ او تطلیقتین فلہ ان یراجعها فی عدتهارضیت بذلک او لم ترض کذا فی الهدایۃ۔(470/1)۔)
وفیہ ایضاً إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها۔(473/1)
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين "(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب"(3/ 409)۔