ماہِ رمضان میں تراویح کے اندر تلاوتِ قرآن کرتے ہیں ، یہاں ایک شخص پہلی صف میں قرآن پاک کو ہاتھ میں لے کر کھڑا رہتا ہے اور دورانِِ نماز دیکھتا رہتا ہے اور غلطی کا لقمہ دیتا ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بدعت ہے، میں نے یہاں کے مشہور علماء سے رجوع کیا تو انہوں نے مثبت میں جواب دیا ، لیکن بعض لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں، اس بارے میں صحیح فتوی کیا ہے؟ براہِ کرم رمضان سے پہلے جواب عنایت فرمائیں۔
عند الاحناف قرآن ہاتھ میں لے کر اس میں سے دیکھ کر پڑھنا اور اوراق پلٹنا عملِ کثیر ہے اور اس میں دیکھ کر لقمہ دینا اور امام کا لقمہ لینا" تلقن من الخارج "ہے، جس کی وجہ سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، اس لۓ مذکور امور سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار : (و قراءته من مصحف) أي ما فيه قرآن (مطلقا) لأنه تعلم إلا إذا كان حافظا لما قرأه و قرأ بلا حمل اھ (1/ 624)۔
و فی الدر المختار : (قوله مطلقا) أي قليلا أو كثيرا ، إماما أو منفردا ، أميا لا يمكنه القراءة إلا منه أو لا (قوله لأنه تعلم) ذكروا لأبي حنيفة في علة الفساد وجهين . أحدهما : أن حمل المصحف و النظر فيه و تقليب الأوراق عمل كثير . و الثاني أنه تلقن من المصحف فصار كما إذا تلقن من غيره . اھ (1/ 624)۔