امامت و جماعت

دورانِ نمازِ تراویح ، قرآن ہاتھ میں لے کر دیکھنا اور اس سے امام کو غلطی بتانا

فتوی نمبر :
6748
| تاریخ :
2009-08-10
عبادات / نماز / امامت و جماعت

دورانِ نمازِ تراویح ، قرآن ہاتھ میں لے کر دیکھنا اور اس سے امام کو غلطی بتانا

ماہِ رمضان میں تراویح کے اندر تلاوتِ قرآن کرتے ہیں ، یہاں ایک شخص پہلی صف میں قرآن پاک کو ہاتھ میں لے کر کھڑا رہتا ہے اور دورانِِ نماز دیکھتا رہتا ہے اور غلطی کا لقمہ دیتا ہے، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ بدعت ہے، میں نے یہاں کے مشہور علماء سے رجوع کیا تو انہوں نے مثبت میں جواب دیا ، لیکن بعض لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں، اس بارے میں صحیح فتوی کیا ہے؟ براہِ کرم رمضان سے پہلے جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

عند الاحناف قرآن ہاتھ میں لے کر اس میں سے دیکھ کر پڑھنا اور اوراق پلٹنا عملِ کثیر ہے اور اس میں دیکھ کر لقمہ دینا اور امام کا لقمہ لینا" تلقن من الخارج "ہے، جس کی وجہ سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، اس لۓ مذکور امور سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (و قراءته من مصحف) أي ما فيه قرآن (مطلقا) لأنه تعلم إلا إذا كان حافظا لما قرأه و قرأ بلا حمل اھ (1/ 624)۔
و فی الدر المختار : (قوله مطلقا) أي قليلا أو كثيرا ، إماما أو منفردا ، أميا لا يمكنه القراءة إلا منه أو لا (قوله لأنه تعلم) ذكروا لأبي حنيفة في علة الفساد وجهين . أحدهما : أن حمل المصحف و النظر فيه و تقليب الأوراق عمل كثير . و الثاني أنه تلقن من المصحف فصار كما إذا تلقن من غيره . اھ (1/ 624)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
خادم حسین منظور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 6748کی تصدیق کریں
2     1173
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات