ترجمہ: میں نے اپنی ذاتی کمائی سے گھر کا پلاٹ لیا اور اس پر گھر بنایا اور پھر بھائیوں اور ماں باپ کو ساتھ رکھا ،ابھی تین چار سال گزرنے کے بعد باپ اور بھائی گھر میں حصہ مانگ رہے ہیں اس پر مجھے تحریری فتویٰ چاہیے ،گھر میں نے اپنی کمائی سے لیا اور بنایا، اس وقت میں گھر والوں سے الگ ہوا تھا ناراضگی تھی ،بعد میں احساس ہوا تو ان کو ساتھ رکھا ،خود ہی شادی کی خود ہی سب کیا اپنی کمائی سے ، اب بھائی اور باپ حصہ مانگ رہے ہیں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائل نے اپنی ذاتی کمائی سے پلاٹ لےکر اس پر اپنے لئے گھر بنایا ہو ،اس میں سائل کے والد یا بھائیوں میں سے کسی کی رقم شامل نہ ہو ،تو ایسی صورت میں مذکور گھر سائل کی ملکیت ہے، اس میں سائل کے والد اور بھائیوں کا شرعاً کوئی حصہ نہیں ،
لہذا سائل کے والد اور بھائیوں کا سائل سے مذکور مکان میں حصے کامطالبہ کرنا جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی المشکوۃ المصابیح: عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لاتظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه(889/2)۔
وفی مجلۃ الاحکام العدلیہ : لا يجوز لأحد أن يأخذ مال أحد بلا سبب شرعي.(المادة 97)۔