مخاصمات

مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

فتوی نمبر :
90372
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / مخاصمات / مخاصمات

مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو بھائیوں کے درمیان ایک قطعہ زمین مشترکہ ملکیت میں تھا،بعد ازاں باہمی رضامندی سے دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے حصے علیحدہ علیحدہ لے لیے، مذکورہ زمین پر تعمیرات آر سی سی طرز پر کی گئی تھیں، جن میں عمارت کی بنیاد( فاؤنڈیشن)، پلرز اور درمیان کی دیوار ابتدا ہی سے مشترکہ طور پر ڈالی گئی تھی اور اس وقت دونوں بھائیوں کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا،اب کچھ عرصہ گزرنے کے بعد چھوٹا بھائی اپنے حصے کی زمین کو مالی مجبوری کے باعث فروخت کرنا چاہتا ہے، مگر بڑا بھائی اس بنیاد پر اعتراض کر رہا ہے کہ درمیان میں موجود دیوار اور اس سے متعلق بنیاد و پلرز اس کی ملکیت ہیں، لہٰذا چھوٹا بھائی اس دیوار کو استعمال نہیں کر سکتا اور اسے اپنے حصے میں علیحدہ بنیاد اور پلرز سے نئی دیوار تعمیر کرنی ہوگی۔
اس صورت حال میں اگر چھوٹا بھائی نئی دیوار تعمیر کرواتا ہے تو عمارت کی بنیادی ساخت ،بنیاد اور پلرز مکمل طور پر بڑے بھائی کے حصے میں چلے جاتے ہیں، جس سے چھوٹے بھائی کو واضح مالی نقصان کا سامنا ہے اور اس کی زمین کی فروخت عملاً ناممکن ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو یہ پیشکش بھی کی ہے کہ چونکہ یہ بنیادیں اور دیوار مشترکہ طور پر تعمیر کی گئی تھیں، اس لیے موجودہ وقت کے حساب سے ان کی قیمت کا تخمینہ لگا لیا جائے اور وہ اس کی آدھی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہے، مگر بڑا بھائی اس پر بھی آمادہ نہیں ہو رہا۔
ایسی صورت حال میں کیا بڑے بھائی کا اس طرح دیوار اور بنیاد کو اپنی ذاتی ملکیت قرار دینا شرعاً درست ہے؟
کیا مشترکہ طور پر بنائی گئی دیوار، بنیاد اور پلرز سے چھوٹے بھائی کو محروم کرنا جائز ہے؟
کیا شریعت کی رو سے چھوٹے بھائی کو اپنے حصے کی زمین فروخت کرنے سے روکنا یا اس میں رکاوٹ ڈالنا درست ہے؟
اس نزاع کا شرعی حل کیا ہے، تاکہ کسی ایک فریق پر ظلم نہ ہو اور دونوں بھائی شریعت کے مطابق اپنے حقوق حاصل کر سکیں؟
براه ِکرم قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں اس معاملے کی واضح اور مفصل رہنمائی فرما دیں۔ جزاكم الله خيراً كثيراً
نوٹ:۔ سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مذکورہ دیوار دونوں بھائیوں کی مشترکہ زمین پراور ابتداء سے ہی مشترکہ اخراجات سے بنائی گئی تھی،اور اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ ایک طرف بڑے بھائی کی اور دوسری طرف چھوٹے بھائی کی ہوگی۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً دونوں بھائیوں نےباہمی رضامندی سے مذکورہ زمین کی تقسیم کے بعد مشترکہ اخراجات سے مشترک زمین پر یہ دیوار تعمیر کی ہو تاکہ دونوں کے حصہ میں آنے والی زمین ایک دوسرے سے ممتاز ہوسکے،تو شرعاً ہر ایک بھائی اپنے حصہ کے بقدر زمین اور اس تعمیر کردہ دیوار میں بقدرِ سرمایہ شریک ہے، لہذا اب بڑے بھائی کا چھوٹے بھائی کو اس کی ملکیتی زمین میں تصرف سے روکنے کیلئے اس دیوار کی تعمیر کو اپنی ملکیت قرار دینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ اُسے چاہیئے کہ وہ یا تو چھوٹے بھائی سے اس کے حصہ کا مکمل مکان مارکیٹ ریٹ کے مطابق خود خریدلے تاکہ یہ پریشانی ختم ہوجائے،اور اگر وہ خود خریدنا نہیں چاہتا تو دونوں کو چاہیئے کہ مل کر کوئی ایسا حل نکال لیں کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنے اپنے حصہ میں آزادی کے ساتھ تصرف کرسکے،بصورتِ دیگر چھوٹے بھائی کو قانونی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: عن سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ: أنہ خاصمتہ أروی فی حق زعمت أنہ انتقصہ لھا إلی مروان، فقال سعید: أنا انتقص من حقھا شیئا؟ أشھد لسمعت رسول الللہ ﷺ یقول: ( من أخذ شبراً من الأرض ظلما فإنہ یطوقہ یوم القیامۃ من سبع أرضین إلخ( کتاب بدء الخلق،باب ماجاء فی سبع أرضین، ج: 2، ص: 1491، ط: البشری )۔
وفی شرح المجلۃ لخالد الأتاسی: کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء إلخ( الفصل الأول فی بیان بعض القواعد المتعلقۃ بأحکام الاملاک، المادۃ: 1192، ج: 3، ص: 190، ط: إدارۃ الکتب العلمیۃ )۔
وفی الدر المختار: (وهي ضربان: شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا) على ما هو الحق (إلی قولہ) وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الامتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة (فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط) لماليهما بفعلهما كحنطة بشعير وكبناء وشجر وزرع مشترك قهستاني إلخ(کتاب الشرکۃ، ج: 4، ص: 299۔300، ط: سعید)۔
وفی جامع الفصولین: هذا لو لم يتصل الحائط ببنائهما فأما ‌المتصل ‌ببنائهما اتصال تربيع أو ملازقة فيقضى به بينهما نصفان إذا استويا، إلخ(الفصل السادس والثلاثون فی مسائل الحیطان، ج: 2، ص: 278، ط: اسلامی کتب خانہ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عمر فاروق شیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90372کی تصدیق کریں
0     271
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فریقین میں پیسوں کے متعلق کا قرض اور ہدیہ میں اختلاف کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 3
  • سنی کے نام میں ’’شاہ‘‘ ہونے کی وجہ سے اس کے ساتھ ’’شیعہ‘‘ جیسا سلوک کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • قرآن پر جھوٹا حلف اٹھانے والے کا حکم-جھوٹی قسم سے کسی چیز کے مالک ہونے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • باپ کی زندگی میں, بیٹے کا اپنی کمائی سے خریدے ہوئےگھر میں وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین اور گھر کی خریدی کے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوی کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • گاڑی گم ہونے پر ، ڈرائیور سے ،زمانۂ گمشدگی کےمتوقع منافع اور گاڑی تلاش کرنے کے اخراجات لینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بیٹا اگر ذاتی کمائی سے مکان بنائے تو اس میں اس کے والد اور بھائیوں کا حصہ ہوگا؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • بلا سببِ شرعی بھائی کی جائیداد میں حصے کا مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • عورت طلاق کا دعویٰ کرے تو اولاد کی شہادت کی کیا حیثیت ہے ؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • ساس کا اپنی بہو کا سونا اس کی اجازت کے بغیر بیٹی کو دیدینا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • حقوق ادا نہ کرنے والے اور طلاق نہ دینے والے شوہر سے خلاصی کا طریقہ

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • شوہر کی جانب سے اپنی بیوی پر کسی سے ناجائز تعلقات کے دعوے میں جرگہ کی رہنمائی

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • دوسرے کی زمین غصب کرنے کا حکم-اور اس کو اسی وجہ سے قتل کرنا

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگے کا عورت کے حق میں شوہر کے خلاف یکطرفہ پابندیا ں عائد کرنا

    یونیکوڈ   انگلش   مخاصمات 0
  • مشترکہ گھر کی دیوار میں دو بھائیوں کے درمیان تنازعہ اور اس کا حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • زمین پندرہ سال سے زائد ملکیت میں ہو اور بلا مانع شرع کوئی مدعی سامنے نہ آئے

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • سرکاری انتقال کے بغیر خریدی گئی زمین کی ملکیت کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
  • جرگہ کا فیصلہ نہ ماننے سے شفعہ کاحق باقی رہے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   مخاصمات 0
Related Topics متعلقه موضوعات