میری بیٹی کا نکاح ہوا تھا اور ایک بیٹا ہے ،لڑکے کی فیملی نے شادی کو قبول نہیں کیا ، اور لڑکے میں کچھ غلط عادتیں بھی تھیں جیسا کہ نشہ وغیرہ ، پچھلے ڈھائی سال سے میاں بیوی میں علیحدگی ہے ، شروع کے دو مہینوں میں اس نے خر چہ دیا تھا پھر نہیں دیا ، اب ہم خلع چاہتے ہیں مگر وہ طلاق نہیں دے رہا ، براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں، کہ خلع کیسے لیا جائے تاکہ ہم بیٹی کی دوبارہ شادی کر سکیں ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائل کاداماد اس کی بیٹی کا نان ونفقہ اور حقوق زوجیت کا خیال نہ رکھتا ہو ، تو سائل کو چاہیئے کے داماد کی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کر نے کی کوشش کرے ، تاہم اگر باوجود کوشش کے اس رشتہ کو برقرار رکھنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہو تو سائل کی بیٹی کچھ مال ( حق مہر وغیرہ ) کے عوض اپنے شوہر سے طلاق یا خلع حاصل کرسکتی ہے، لیکن شوہر اگر اس کے لئے بھی تیار نہ ہو اور نہ گھر بسا کر بیوی کا نان نفقہ اور دیگر حقوق ادا کرتا ہو تو ایسی صوت میں اس کا شوہر حکماً متعنت شمار ہوگا، لہٰذا ایسی مجبوری میں سائلہ کو نان نفقہ نہ دینے اور حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کی بنیاد پر بذریعہ قضاءِ قاضی فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا۔
جس کا طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنا مقدمہ مسلمان حاکم ( جج ) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو ، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوٰی صحیح ثابت ہوجائے تو اس کے خاوند سے کہا جائےکہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کردے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو گی ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع ( الی قولہ ) وکیف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها الخ ( ج 3 ص 153 )۔
وفی الحیلۃ الناجزۃ: وأما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرۃ انفق أو طلق، وإلا طلق علیہ، قال محشیہ: أی طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم الخ ( ص 73 )۔