کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ من سائل نے قطعہ اراضی مسمیٰ فضل الرحمٰن خرید چکا ہوں، متذکرہ زمین کے جنوب سمت والی زمین پہلے سے میری ملکیت ہے اور درمیان میں فضل الرحمٰن والا حصہ، جبکہ شمال کی جانب گاجی خان کی زمین ہے۔
من سائل نے زمین خریدتے وقت مسمٰی گاجی خان کو کہا تھا کہ اگر آپ مذکورہ زمین خریدنا چاہتے ہیں تو مجھے کوئی عذر و اعتراض نہ ہوگا، مگر گاجی خان کے بیٹوں نے دعوٰی شفعہ نہ کیا اور من سائل نے فضل الرحمٰن کا حصہ خریدنے کے بعد متذکرہ زمین میں بورنگ نصب کر کے کاشت وغیرہ کی غرض سے بھاری رقم خرچ کرچکا ہوں۔
جبکہ تین مہینے اور پندرہ دن کے بعد گاجی خان کے بیٹوں نے دعوٰی شفعہ دائر کیا ہے اور انہوں نے دعوٰی یہ کیا ہے کہ جس قیمت پر آپ نے زمین خریدی ہے، اسی قیمت پر ہمیں حوالہ کریں، جبکہ من سائل بھاری رقم خرچ کرچکا ہوں، من سائل نے زمین خریدنے سے قبل محمد فاروق اور داد محمد کی موجودگی میں گاجی خان کے بیٹوں کو کہا کہ آپ اگر زمین خریدنا چاہتے ہیں تو خرید لیں، مگر انہوں نے کوئی دعوٰی شفعہ نہ کیا، واضح رہے کہ من سائل گاجی خان کا نواسہ ہوں، میری مادری زمین کا حصہ بھی گاجی خان کے ساتھ مشترک ہے، لہٰذا آنجناب متذکرہ مسئلہ کے بارے میں شریعتِ محمدی ﷺ کی روشنی میں بتائیں کہ گاجی خان کے بیٹوں کو شفعہ کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ جبکہ من سائل گاجی خان کا نواسہ بھی ہوں اور مذکورہ زمین کی ایک طرف میری زمین کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل نے مسمٰی گاجی خان کے بیٹوں کو زمین کی بیع مکمل ہوجانے کے بعد اطلاع دی تھی یا نہیں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر بیع مکمل ہوجانے کے بعد مسمیٰ گاجی خان کے بیٹوں کو زمین کی خریداری کی اطلاع تھی، اور انہوں نے خاموشی اختیار کی اور وہ اب ساڑھے تین مہینے بعد شفعہ کا دعوٰی کررہے ہیں تو ایسی صورت میں ان کا یہ دعوی درست نہیں ہے ، اور ان سے حق شفعہ ساقط ہوچکا ہے، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہوتو فریقین کسی قریبی مستند دارالافتاء سے رجوع کر کے مکمل تفصیل بتا کر ان سے مسئلہ پوچھ لیں۔
کما فی الھندیۃ: الشفعة تجب بالعقد والجوار وتتأكد بالطلب والإشهاد وتتملك بالأخذ ثم الطلب على ثلاثة أنواع طلب مواثبة وطلب تقرير وإشهاد وطلب تمليك (أما طلب المواثبة) فهو أنه إذا علم الشفيع بالبيع ينبغي أن يطلب الشفعة على الفور ساعتئذ وإذا سكت ولم يطلب بطلت شفعته وهذه رواية الأصل المشهور عن أصحابنا وروى هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إن طلب في مجلس العلم فله الشفعة وإلا فلا بمنزلة خيار المخيرة وخيار القبول ثم اختلفوا في كيفية لفظ الطلب والصحيح أنه لو طلب الشفعة بأي لفظ يفهم منه طلب الشفعة جاز حتى لو قال طلبت الشفعة وأطلبها وأنا طالبها جاز ولو قال الشفعة لي أطلبها بطلت شفعته ولو قال للمشتري أنا شفيعك وآخذ الدار منك بالشفعة بطلت الخ ( ج 5 ص 171)۔
وفی الھدایۃ: قال: "وإذا اجتمع الشفعاء فالشفعة بينهم على عدد رءوسهم ولا يعتبر اختلاف الأملاك" وقال الشافعي: هي على مقادير الأنصباء؛ لأن الشفعة من مرافق الملك؛ ألا يرى أنها لتكميل منفعته فأشبه الربح والغلة والولد والثمرة. ولنا أنهم استووا في سبب الاستحقاق وهو الاتصال فيستوون في الاستحقاق؛ ألا يرى أنه لو انفرد واحد منهم استحق كل الشفعة. وهذا آية كمال السبب وكثرة الاتصال تؤذن بكثرة العلة، والترجيح بقوة الدليل لا بكثرته، ولا قوة هاهنا لظهور الأخرى بمقابلته وتملك ملك غيره لا يجعل ثمرة من ثمرات ملكه، بخلاف الثمرة وأشباهها، ولو أسقط بعضهم حقه فهي للباقين في الكل على عددهم؛ لأن الانتقاص للمزاحمة مع كمال السبب في حق كل واحد منهم وقد انقطعت. ولو كان البعض غيبا يقضي بها بين الحضور على عددهم؛ لأن الغائب لعله لا يطلب، وإن قضى لحاضر بالجميع ثم حضر آخر يقضي له بالنصف، ولو حضر ثالث فبثلث ما في يد كل واحد تحقيقا للتسوية، فلو سلم الحاضر بعدما قضى له بالجميع لا يأخذ القادم إلا النصف؛ لأن قضاء القاضي بالكل للحاضر يقطع حق الغائب عن النصف بخلاف ما قبل القضاء. قال: "والشفعة تجب بعقد البيع" ومعناه بعده لا أنه هو السبب؛ لأن سببها الاتصال على ما بيناه، والوجه فيه أن الشفعة إنما تجب إذا رغب البائع عن ملك الدار، والبيع يعرفها ولهذا يكتفى بثبوت البيع في حقه حتى يأخذها الشفيع إذا أقر البائع بالبيع وإن كان المشتري يكذبه. الخ ( کتاب الشفعۃ ج 4 ص 310)۔