السلام علیکم! میں نے ایک پلاٹ لیا تھا ،1998 میں , اور اس کو قسطوں پر لیا تھا , تو میں اس وقت کراچی میں تھا ،2001 میں، میں پاکستان سے باہر آ گیا کینیڈا میں ،تو میں اس کی قسطیں والد صاحب کو دیتا رہا ,درمیان میں مختلف پیسے جب بھیجتا تھا تو اس کے ساتھ پیج بیس پیسے بھیج دیتا تھا، اور وہ قسطیں دے دیتے تھے، تو آخر میں جو قسطیں دی تھیں، تو وہ کچھ زیادہ ایک ساتھ جمع ہو گئی تھیں، تو وہ میں نے پیسے بھی ایک ساتھ بھیج دیے تھے جس کی رسید اس ڈاکومنٹ میں جمع ہے ، تو مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ میری ایک بہن نے ابھی اعتراض کیا ہے کہ اس پلاٹ کو ہمیں وراثت میں شامل کرنا چاہیئے ،پلاٹ میں نے اپنے نام سے لیا تھا اور قسطیں میں ہی دیتا تھااس کی , اور جس میں سے الموسٹ ہاف جو ہے میں نے ایک ساتھ کی سپرے بھی کی تھی اس کی رسید بھی اٹیچ ہے تو برائے مہربانی بتائیں کہ اس پلاٹ کو ہمیں وراثت کے پیسوں کے حساب سے تقسیم کرنا ہوگا ؟یا یہ کہ یہ میرا ہوگا ؟ میرا نام طارق ہے اور اس طارق فاروق ہے اور اس کی ڈاکومنٹس کی فوٹو کاپی اٹیچ ہے اس کے اندر ساتھ ہی ڈاکومنٹ ہیں، برائے مہربانی اس کا تفصیل سے جواب دے دیجیے اللہ حافظ , تھینک یو -
(نوٹ) ہمارے والد صاحب کا انتقال 2013 میں ہوا تھا اور اس سے پہلے یہ پلاٹ سارا ٹرانسفر ہو چکا تھا میرے نام پر اور میں نے ہی اس کی ساری قسطیں دی تھیں تو اس کی رسیدیں بھی اٹیچ ہیں, مین جو رسیدیں تھیں , تو برائے مہربانی اس کا تفصیل سے جواب دیجیے گا
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ،اس میں کسی قسم غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃً مذکور پلاٹ سائل نے از خود خریدا ہو اور اس کی ساری قسطیں بھی سائل نے خود ادا کی ہوں تو مذکور پلاٹ تنہا سائل کی ملکیت ہے،لہذا والد کے انتقال کی صورت میں بہنوں کا مذکور پلاٹ میں حصہ داری کا دعوی کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی تنقیح الحامدیہ: و فی الفتاوی الخیریہ سئل فی ابن کبیر ذی زوجۃ وعیال لہ کسب مستقل حصل بسببہ اموالا ومات ھل ھی لوالدہ خاصہ ام تقسم بین ورثتہ اجاب ھی للابن تقسم بین ورثتہ علی فرائض اللہ تعالیٰ حیث کان لہ کسب مستقل بنفسہ اھ(2/17)۔